اتوار, 27 ستمبر 2026
  • Home  
  • وفاقی آئینی عدالت میں وکلاء کے دلائل کے لیے ڈیجیٹل سسٹم نصب، ہر فریق کا وقت مقرر
- دنیا

وفاقی آئینی عدالت میں وکلاء کے دلائل کے لیے ڈیجیٹل سسٹم نصب، ہر فریق کا وقت مقرر

وفاقی آئینی عدالت میں فریقین کے وکلاء کے لیے ٹائم سسٹم نصب کرنے سے مقدمات کی جلد سماعت اور زیر التوا مقدمات کو جلد نمتانے میں مدد ملے گی۔

اسلام آباد (طارق اقبال چوہدری) وفاقی آئینی عدالت پاکستان میں مقدمات کی سماعت کے نظام کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کے لیے وکلاء کے دلائل کا وقت مقرر کرنے کے لیے پہلی مرتبہ ڈیجیٹل گھڑی پر ٹائمر سسٹم متعارف کرا دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی ہدایت پر عدالت میں وکلاء اور بینچ کے سامنے الگ الگ ٹائمر نصب کیے گئے ہیں۔اس اقدام کو وکلاء برادی نے سراہا۔

نئے نظام کے تحت ایک مقدمے میں فریقین کے وکلاء کو ابتدائی طور پر 10،10 منٹ دلائل کے لیے دیے جائیں گے۔ اگر کسی اہم یا پیچیدہ مقدمے میں مزید وقت درکار ہو تو عدالت اپنی صوابدید کے مطابق دلائل کا وقت بڑھا سکے گی۔ بڑے اور اہم مقدمات میں یہ وقت عدالتی حکم کے ذریعے 30 منٹ تک بڑھایا جا سکے گا۔

ٹائمر سسٹم کے تحت جب کسی وکیل کے لیے مقررہ وقت مکمل ہوگا تو ٹائمر خودکار طور پر الارم بجائے گا، جس سے وکیل اور عدالت کو فوری طور پر آگاہی ہو جائے گی کہ مقررہ وقت ختم ہو چکا ہے۔ اس کے بعد وکیل کو روسٹرم سے ہٹنا ہوگا، تاہم اضافی وقت دینے کا اختیار عدالت کے پاس ہوگا۔

چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی عدالت میں اس نظام کے تحت مقدمات کی سماعت بھی شروع کر دی گئی ہے۔ دورانِ سماعت عدالت کے سامنے پیش ہونے والے وکلاء نے وقت کے بہتر استعمال اور مقدمات کی تیز تر سماعت کے لیے اس اقدام کو سراہا۔نئے نطام سے

وفاقی آئینی عدالت پہلے ہی زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے اور عدالتی امور میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دے رہی ہے۔ اپریل 2026 میں فل کورٹ اجلاس کے دوران چیف جسٹس نے مقدمات کے جلد فیصلوں اور مؤثر کیس مینجمنٹ کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ عدالت کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ادارہ جاتی کارکردگی، کیس مینجمنٹ اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک میں بھی وکلاء کے لیے وقت مقرر

وکلاء کے دلائل کے لیے وقت مقرر کرنا عالمی عدالتی نظام میں کوئی بالکل نیا تصور نہیں۔ کئی ممالک کی اعلیٰ عدالتوں میں مقدمے کی نوعیت کے مطابق وکلاء کو پہلے سے مخصوص وقت دیا جاتا ہے، جبکہ بعض عدالتوں میں مقررہ وقت کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل گھڑی یا ٹائمر بھی استعمال ہوتا ہے۔

کینیڈا: ڈیجیٹل گھڑی کا باقاعدہ استعمال

سپریم کورٹ آف کینیڈا میں وکلاء کے دلائل کے لیے باقاعدہ ڈیجیٹل گھڑی موجود ہے۔ عدالت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق عام طور پر اپیل میں ہر فریق کو ایک گھنٹہ زبانی دلائل کے لیے دیا جاتا ہے، تاہم بعض اپیلوں میں یہ وقت 30 منٹ تک کم کیا جا سکتا ہے۔

دلائل کے دوران وکیل کے سامنے موجود ڈیجیٹل گھڑی مقررہ وقت ختم ہونے سے 5 منٹ پہلے سبز، 2 منٹ پہلے پیلی اور وقت مکمل ہونے پر سرخ ہو جاتی ہے۔ اس طرح وکیل کو بیک وقت یہ معلوم رہتا ہے کہ اس کے پاس کتنا وقت باقی ہے۔

امریکا سپریم کورٹ میں وقت

Supreme Court of the United States میں بھی زبانی دلائل کے لیے وقت باقاعدہ مقرر ہے۔ عدالت کے قواعد کے مطابق عام طور پر ہر فریق کو 30 منٹ دیے جاتے ہیں۔ اضافی وقت صرف عدالت کی اجازت سے مل سکتا ہے اور عدالت کے سرکاری قواعد کے مطابق اضافی وقت معمول کے بجائے غیر معمولی طور پر دیا جاتا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ میں عدالت کا مارشل وکلاء کے زبانی دلائل کے وقت کی نگرانی بھی کرتا ہے تاکہ وکیل مقررہ وقت سے تجاوز نہ کریں۔

آسٹریلیا کے اوقات کار

ہائی کورٹ آف آسٹریلیا میں بھی زبانی دلائل کے لیے واضح وقت مقرر ہے۔ عدالت کے قواعد کے مطابق درخواست گزار کو 20 منٹ، جواب دہندہ کو 20 منٹ جبکہ درخواست گزار کو جواب میں مزید 5 منٹ دیے جاتے ہیں۔

عدالت کے قواعد میں یہ بھی گنجائش موجود ہے کہ مخصوص حالات میں عدالت مقررہ وقت میں اضافہ کر سکتی ہے، تاہم اضافی وقت معمول کا طریقہ نہیں ہے۔

برطانیہ: پہلے سے مقررہ ٹائم ٹیبل کے مطابق دلائل

Supreme Court of the United Kingdom میں بھی وکلاء کے دلائل کے لیے وقت کا باقاعدہ انتظام موجود ہے۔ عدالت کی پریکٹس ڈائریکشنز کے مطابق وکلاء سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سماعت کے لیے دیے گئے وقت کے اندر اپنے دلائل مکمل کریں۔

عدالت کے مطابق فریقین کو سماعت سے پہلے وکلاء کی تقریر کا ترتیب وار شیڈول اور متوقع وقت طے کرکے رجسٹری کو فراہم کرنا ہوتا ہے۔ عدالت کی اجازت کے بغیر وکیل مقررہ وقت سے تجاوز کرنے کے بجائے پہلے سے طے شدہ ٹائم ٹیبل کے مطابق دلائل مکمل کرتے ہیں۔

بھارت: عدالت مقدمے کے مطابق وقت مقرر کر سکتی ہے

بھارت میں بھی سپریم کورٹ کے سامنے ایسے مقدمات کی مثالیں موجود ہیں جہاں عدالت نے وکلاء کے زبانی دلائل کے لیے واضح وقت مقرر کیا۔ مثال کے طور پر مارچ 2026 کے ایک مقدمے میں بھارتی سپریم کورٹ نے مختلف وکلاء کو زبانی دلائل کے لیے زیادہ سے زیادہ 20،20 منٹ کا وقت دیا اور اس شیڈول پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی۔

بھارتی سپریم کورٹ کے ایک اور حالیہ فیصلے میں عدالت نے طویل اور غیر ضروری زبانی دلائل کے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات کی بروقت سماعت کے لیے دلائل کے وقت کو محدود کرنے کی ضرورت پر قانونی نظام میں واضح سوچ ہونی چاہیے۔

وقت کی پابندی کا بنیادی مقصد

دنیا کی مختلف اعلیٰ عدالتوں میں وکلاء کے لیے مقررہ وقت کا بنیادی مقصد دلائل کے حق کو محدود کرنا نہیں بلکہ عدالتی وقت کو منظم کرنا، تمام فریقوں کو مساوی موقع دینا اور ایک ہی دن میں زیادہ مقدمات کی سماعت ممکن بنانا ہے۔

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت میں متعارف کرایا گیا ٹائمر سسٹم اسی تصور کے تحت ایک عملی انتظامی اقدام ہے، جس کے ذریعے وکیل کو اپنے دلائل کے لیے دستیاب وقت کا مسلسل اندازہ رہے گا جبکہ عدالت کو بھی سماعت کے دورانیے کو منظم رکھنے میں مدد ملے گی۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!