اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر جنت مرزا نے خواتین کے چہروں کو بغیر اجازت جعلی اور گمراہ کن ویڈیوز میں استعمال کیے جانے کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جنت مرزا نے سوشل میڈیا پر اپنی اور ایک مرد کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ طور پر ان کے چہرے کو ان کی اجازت کے بغیر ایک جعلی ویڈیو بنانے کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے ان کی عزت اور وقار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
جعلی ویڈیوز پر جنت مرزا کا ردعمل
جنت مرزا نے کہا کہ ایسی ویڈیوز کو ہرگز مذاق نہیں سمجھنا چاہیے اور کسی شخص کے چہرے کا اس طرح استعمال انتہائی تشویش ناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آج ان کا چہرہ اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے تو کل کسی بھی لڑکی کی عزت اور نجی زندگی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا استعمال نہ کرنے والی خواتین سے متعلق تشویش
جنت مرزا نے کہا کہ وہ خود سوشل میڈیا پر فعال ہیں، لیکن ایسی ویڈیو دیکھ کر انہیں بھی شدید بے چینی محسوس ہوئی۔
انہوں نے لوگوں سے کہا کہ ان خواتین کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے جو سوشل میڈیا پر موجود نہیں اور جن کی تصاویر بھی ان کی لاعلمی میں غلط مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
صارفین کا قانونی کارروائی کا مطالبہ
جنت مرزا کے مؤقف پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی ردعمل دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی مواد تیار کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔
ایک صارف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور ایسی ویڈیوز بنانے والوں کو سزا دینے کے لیے سخت قوانین ہونے چاہئیں۔
ایک اور صارف نے جنت مرزا کو قانونی کارروائی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا مؤثر قانونی نظام ہونا چاہیے جس کے ذریعے مستقبل میں دوسروں کے ساتھ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
مصنوعی ذہانت اور شناخت کے غلط استعمال پر تشویش
ایک صارف نے ویڈیو کو انتہائی خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بھی شناخت نہیں کر سکی کہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تھی۔
صارفین کے ردعمل میں مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والے جعلی مواد، رازداری اور خواتین کی شناخت کے غلط استعمال پر تشویش نمایاں رہی، جبکہ بعض صارفین نے ایسے مواد کے خلاف مؤثر قانونی اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔
آن لائن ہراسانی کے خلاف جنت مرزا کی آواز
جنت مرزا اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر خواتین کو ہراساں کیے جانے اور ذاتی حملوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
ان کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے شناخت کے ممکنہ غلط استعمال کے معاملے کو اجاگر کیا ہے۔


