اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان نے بدھ کو ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی پر مشتمل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کر دیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق ہلال امتیاز (ملٹری) کے حامل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ریاض میں قائم کیے جانے والے اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ 31 اگست کو استنبول میں ہونے والے افتتاحی اجلاس میں معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید آگے بڑھایا گیا اور ریاض میں قائم ہونے والے سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اتحادی اداروں کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا اور ان کی ابتدائی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔
نعمان محمود کا عسکری کیریئر
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود 2023 میں ریٹائر ہوئے۔ وہ نومبر 2021 سے اپریل 2023 تک نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر بھی رہے۔
ان کے سابقہ عسکری عہدوں میں اہم کمانڈ اور اسٹاف ذمہ داریاں شامل رہی ہیں۔ انہوں نے عسکریت پسندی سے متاثرہ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں بھی خدمات انجام دیں اور ایک اہم فوجی کور کی کمان سنبھالی۔
علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال
نعمان محمود کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور یمن کی ایران نواز حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے مکہ کے قریب ممنوعہ فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک ڈرون کو روک لیا۔ مکہ مکرمہ میں اسلام کا مقدس ترین مقام واقع ہے، تاہم حوثیوں نے شہر کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی خطے میں جاری وسیع تر تنازع کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں باب المندب کی اہم آبنائے کے اطراف حوثیوں کی پیش قدمی نے بحری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔
سعودی عرب کے لیے پاکستان کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں حالیہ حوثی حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور اسلام کے مقدس مقامات کے تقدس کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مضبوط ہوتی ہوئی تزویراتی شراکت داری قرار دیا اور دونوں ممالک کے دفاعی معاہدوں کا حوالہ بھی دیا۔
تاہم وزیراعظم نے کسی نئی فوجی تعیناتی کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ آیا ریاض نے اسلام آباد سے فوجی مدد طلب کی ہے۔
وزیراعظم کا بیان منگل کو اقوام متحدہ میں ہونے والے اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں پاکستان، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی قانون کے تحت سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی۔ تاہم انہوں نے خطے میں جاری وسیع تر بحران کے سفارتی حل پر بھی زور دیا۔


