اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • اسلام آباد میں 32 کلومیٹر طویل کا نیاکمرشل منصوبہ
- پاکستان

اسلام آباد میں 32 کلومیٹر طویل کا نیاکمرشل منصوبہ

سی ڈی اے نے اسلام آباد کے جی ٹی روڈ کے ساتھ بڑے تجارتی منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے، جس سے 500 ارب روپے سے زائد آمدن متوقع ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اسلام آباد کے جی ٹی روڈ کے ساتھ ایک بڑے تجارتی منصوبے کے آغاز کی تیاری کر رہی ہے، جس سے شہری ادارے کو 500 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل ہونے کا امکان ہے۔

سی ڈی اے کے چیئرمین سہیل اشرف نے متعلقہ شعبوں کو منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ منصوبے کا باضابطہ آغاز آئندہ چند ماہ میں متوقع ہے۔

16 کلومیٹر طویل علاقے میں تجارتی سرگرمیاں

مجوزہ تجارتی علاقہ سی ڈی اے کی جانب سے 1967 میں حاصل کی گئی 3,550 کنال اراضی کے ایک حصے پر قائم کیا جائے گا۔ یہ زمین جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف 200 فٹ چوڑی پٹی پر مشتمل ہے اور ای ایم ای کالج سے نکلسن مونومنٹ تک تقریباً 16 کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق منصوبہ بندی اور ترقیاتی کام مکمل ہونے کے بعد تقریباً 2,000 کنال اراضی کو تجارتی استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

500 ارب روپے سے زائد آمدن کا امکان

ایک عہدیدار کے مطابق اگر کم از کم 7 لاکھ 50 ہزار روپے فی مربع گز کی مفروضہ شرح کو مدنظر رکھا جائے تو پوری قابلِ استعمال اراضی کی فروخت سے 500 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل ہونے کی گنجائش موجود ہے۔

تاہم سی ڈی اے پوری تجارتی اراضی ایک ہی مرحلے میں فروخت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ حکام کے مطابق منصوبے کو مرحلہ وار شروع کرنے اور اسی انداز میں اس سے آمدن حاصل کرنے کا امکان ہے۔

تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری

جی ٹی روڈ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے زیر انتظام ہے، جبکہ اس سے ملحقہ حاصل شدہ اراضی سی ڈی اے کی ملکیت ہے۔ سی ڈی اے اپنی زمین کی حد بندی اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، خصوصاً ان مقامات پر جہاں سی ڈی اے اور این ایچ اے کی حدود آپس میں ملتی ہیں۔

حکام کے مطابق کارروائیوں کے ذریعے اراضی کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی واگزار کرایا جا چکا ہے، جبکہ باقی تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک اور کارروائی جاری ہے۔ سی ڈی اے کی اراضی پر قائم مستقل تعمیرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جنہیں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہٹایا جا سکتا ہے۔

منصوبے کے ڈیزائن پر کمیٹی قائم

سی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل اسپیشل پلاننگ اعجاز احمد شیخ نے منصوبے کا ڈیزائن حتمی شکل دینے کے لیے چار رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آرکیٹیکچر علی عبداللہ کریں گے۔

تجارتی طلب کا بھی جائزہ

سی ڈی اے علاقے میں ممکنہ تجارتی طلب کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ اس سلسلے میں پٹرول پمپس اور بھاری تعمیراتی مشینری سے متعلق کاروباروں کے لیے مواقع کا جائزہ لیا جا رہا ہے، خصوصاً ترنول کے اطراف کے علاقے میں۔

یہ پیش رفت جی ٹی روڈ کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی میں سی ڈی اے کی جاری توسیع کا حصہ ہے۔ سی ڈی اے کے سرکاری ریکارڈ میں اس راہداری کے ساتھ متعدد منظور شدہ تجارتی منصوبے اور دیگر ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!