اردو رپورٹ ڈیسک
طورخم سرحد کی بندش کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جس سے مالی نقصان کا تخمینہ 380 ارب سے 400 ارب روپے تک لگایا گیا ہے۔ مقامی تاجروں اور کاروباری نمائندوں کے مطابق سرحدی گزرگاہ بند ہونے سے سرحد پار تجارت پر انحصار کرنے والے کاروبار مشکلات کا شکار ہیں۔
طورخم سرحد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس کی بندش سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور ان کاروباروں کو نقصان پہنچا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان سامان کی نقل و حمل اور تجارت سے وابستہ ہیں۔
لنڈی کوتل میں ہزاروں افراد کا روزگار متاثر
سرحد کی بندش کے اثرات لنڈی کوتل کے مقامی لوگوں کے روزگار پر بھی پڑے ہیں۔ مقامی اندازوں کے مطابق تقریباً 2,500 ٹیکسی ڈرائیور اور 3,000 مزدور اپنی آمدن کے ذرائع سے محروم ہو چکے ہیں۔
مقامی تاجروں اور کاروباری نمائندوں کے مطابق سرحد کی بندش سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ ان افراد کی معاشی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے جن کا روزگار سرحد پار تجارت سے وابستہ ہے۔


