اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان اور لتھوانیا نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ویزا اور قونصلر سہولتوں میں بہتری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طلبہ، پیشہ ور افراد اور کاروباری شخصیات کی آمدورفت آسان بنانے کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کے آٹھویں دور کے دوران آن لائن ہوئی۔
پاکستان اور لتھوانیا کے وفود کی قیادت
پاکستانی وفد کی قیادت یورپ کے لیے ایڈیشنل سیکریٹری اور سفیر عائشہ علی نے کی، جبکہ لتھوانیا کے وفد کی سربراہی نائب وزیر ودمانتاس ورباؤسکاس نے کی۔
مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے سیاسی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ تجارت بڑھانے، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ویزا اور قونصلر سہولتوں میں بہتری پر غور
دونوں وفود نے ویزا اور قونصلر امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے پیشہ ور افراد، طلبہ اور کاروباری شخصیات کے لیے سفر آسان بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔
تاہم، جاری کردہ تفصیلات میں ویزا پالیسی میں کسی نئی تبدیلی، درخواست دینے کے طریقہ کار یا نئی سہولتوں پر عمل درآمد کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس لیے فی الحال اس پیش رفت کو ویزا سہولتوں کے حوالے سے بات چیت اور تعاون بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے، نہ کہ ویزا قواعد میں نافذ العمل تبدیلی۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات میں تعاون
پاکستان اور لتھوانیا نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے مواقع پر بھی غور کیا۔
اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی، جبکہ اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال
مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے کثیرالفریقی فورمز پر قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق لتھوانیا نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو تسلیم کیا۔
سیاسی مشاورت کا اگلا دور بھی ہوگا
پاکستان اور لتھوانیا نے دوطرفہ سیاسی مشاورت کا اگلا دور باہمی اتفاق سے طے شدہ تاریخ پر منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس مشاورت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات، تجارت، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینا ہے۔

