وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے دیگر مرکزی رہنماؤں سمیت سپریم کورٹ میں دھرنا دیدیا تاہم اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ان سے ملاقات نہ کی اور ملے بغیر ہی گھر روانہ ہو گئے ۔

وزیر اعلیِ کے پی کے کا اصرار تھاکہ وہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی طرف سے جواب ملنے تک یہیں بیٹھے رہیں گے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی میڈیا سے گفتگو بھی ہوئی۔اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئِ رہنماوں کی ملاقات سے حکومت مسلسل انکاری ہے جس پر تحریک انصاف کے رہنما احتجاج پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جب بیماری لاحق ہوئی تو جیل میں اس کا معائنہ ہوا ہوگا۔ تاہم اس معائنے کا فیملی اور وکلا کو نہیں بتایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بات اڈیالہ سے پمز تک پہنچ گئی لیکن اہل خانہ کو نہیں بتایا گیا۔ اور حکومت 5 دن اس چیک اپ سے انکار کرتی رہی انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی تشویش ہے کہ پمز ہسپتال میں کوئی ریٹینا سپیشلٹ ہے ہی نہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ 8 فروری کو بسنت کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پہیہ جام بھی کیا جائے گا، جبکہ پارٹی کی جانب سے احتجاج اور مذاکرات دونوں آپشنز کو بیک وقت کھلا رکھا گیا ہے۔ پارٹی قیادت نے اس حوالے سے واضح حکمتِ عملی طے کر دی ہے۔


