لاہور کے علاقے ڈیفنس سے چند روز قبل لاپتہ ہونے والے پاکستانی نژاد کینیڈین سکالر حمزہ احمد کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پاکستان کے سائبر کرائم قانون (پیکا) کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے،تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر تفصیلی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔
بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق حمزہ احمد کے وکیل یوسف رشید نے بتایا کہ تین روز تک لاعلمی کے بعد اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی کہ حمزہ کو پیکا ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حمزہ کی بہن کو ایک فون کال موصول ہوئی جس میں انہیں بتایا گیا کہ حمزہ اس وقت لاہور کی کیمپ جیل میں موجود ہیں۔
وکیل کے مطابق لاپتہ ہونے اور اغوا کے مقدمے کے تین روز بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے 21 فروری کو ایک نئی ایف آئی آر درج کی گئی۔
جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حمزہ احمد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس (ایکس اور انسٹاگرام) پر ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف مواد شیئر کرتے رہے ہیں۔
اغوا یا گرفتاری؟
حمزہ احمد چند روز قبل اپنی پی ایچ ڈی تحقیق کے سلسلے میں پاکستان آئے تھے۔ 19 فروری کی رات وہ ایک ٹیکسی سروس کے ذریعے اپنی دوست کو گھر چھوڑنے گئے، تاہم اس کے بعد وہ واپس نہ آئے اور لاپتہ ہو گئے۔
ابتدائی طور پر ان کے وکیل اور دوستوں کی جانب سے اغوا کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس پر پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا۔
ایس ایس پی انوسٹیگیشن محمد نوید کے مطابق پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر کے تحقیقات شروع کر دی تھیں اور ٹیکسی ڈرائیور کی تلاش جاری تھی۔
ایف آئی آر میں پیکا کی دفعات 20، 24 اور 26 اے شامل کی گئی ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایف آئی آر میں کسی مخصوص سوشل میڈیا پوسٹ کا لنک یا حوالہ شامل نہیں کیا گیا۔
حمزہ احمد کون ہیں؟
حمزہ احمد کینیڈا کی معروف درسگاہ University of Toronto سے بطور سکالر وابستہ ہیں۔
وہ مشرق وسطیٰ، پاکستان اور بھارت کی سیاست، جمہوری عمل، معاشی حالات، جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق اور فلسطین کے مسئلے جیسے موضوعات پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔
ان کے ایک قریبی دوست کے مطابق حمزہ ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قریب بھی رہے اور ان کی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہے۔
سیاسی ردعمل
تاریخ دان اور سیاسی کارکن عمار علی جان نے بی بی سی اردو سے گفتگو میں بتایا کہ حمزہ احمد نے اغوا سے قبل ان سمیت درجنوں اہم شخصیات سے انٹرویوز کیے تھے۔
ان کے مطابق تحقیق کے سوالات زیادہ تر فلسطین، عالمی سیاست اور سیاسی عدم برداشت جیسے موضوعات پر مبنی تھے۔
اہلِ خانہ اور دوستوں کا مؤقف
حمزہ کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ تحقیق کی بنیاد پر تنقیدی گفتگو کرتے تھے، چاہے موضوع پاکستان ہو یا بھارت۔
ان کے مطابق ماضی میں بھی وہ پاکستان آتے رہے ہیں اور کبھی کسی قسم کی قانونی رکاوٹ یا پوچھ گچھ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئیں


