سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی صحت، علاج اور مقدمات کی پیروی کے معاملات پر ان کے خاندان وکلا اور پارٹی قیادت کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی محدود ملاقاتوں اور قانونی پیش رفت کے حوالے سے مختلف بیانات نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے عمران خان کی بہن علیمہ خان aleema khan کے ان الزامات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پارٹی قیادت میں شامل بعض وکلا عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر کوششیں نہیں کر رہے۔

علیمہ خان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان کے علاج کے معاملے پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے علاج میں تاخیر کی ذمہ دار خود علیمہ خان ہیں۔
ان کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے حوالے سے پارٹی قیادت کو بریفنگ کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی دعوت پر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر اسلام آباد کے پمز ہسپتال پہنچے اور تفصیلی بریفنگ لی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز نے تقریباً 45 منٹ تک طبی معاملات پر بریفنگ دی جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے بھی سوالات کیے اور اطمینان کا اظہار کیا۔
ان کے مطابق بیرسٹر گوہر کو اپنے معالجین ساتھ لانے کی پیشکش بھی کی گئی تھی تاہم انہوں نے لاعلمی یا عدم دستیابی کا عذر پیش کیا۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ بعد ازاں علیمہ خان کی مداخلت کے باعث تین روز تک میڈیکل چیک اپ میں تاخیر ہوئی۔
علیمہ خان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت نے انہیں کسی پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ عمران خان نے جن وکلا کو پارٹی ٹکٹ دیے تھے وہ اس وقت کہاں ہیں اور چیئرمین ہونے کے ناطے بیرسٹر گوہر کی ذمہ داری کیا بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ خود عمران خان کے لیے کوشش کر سکتی ہیں تو عہدوں پر فائز افراد کو بھی عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ 2024 کے انتخابات سے قبل تحریک انصاف نے متعدد وکلا کو پارٹی ٹکٹس جاری کیے تھے اور عمران خان کی عدم موجودگی میں بیرسٹر گوہر علی خان کو پارٹی چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔
نو مئی کے واقعات کے بعد پارٹی چھوڑنے والے بعض سابق رہنماؤں، جن میں فواد چوہدری شامل ہیں، یہ الزام بھی لگا چکے ہیں کہ موجودہ قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ نہیں۔
پی ٹی آئی کے وکلا نے علیمہ خان کے الزامات کی تردید کی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ متعدد بار ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کر چکے ہیں اور وہ مسلسل قانونی جدوجہد کر رہے ہیں۔
وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ہر وکیل اپنے اپنے کیس کی پیروی کرتا ہے اور انہیں جس مقدمے کا وکالت نامہ دیا جاتا ہے وہ اسی تک محدود ہوتے ہیں۔
بیرسٹر علی بخاری نے بھی کہا کہ وہ انسداد دہشت گردی عدالت سمیت مختلف عدالتوں میں باقاعدگی سے پیش ہو رہے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے نہ صرف تحریک انصاف کے اندرونی معاملات کو نمایاں کیا ہے بلکہ عمران خان کی صحت اور قانونی حکمت عملی کے حوالے سے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
مزید پڑھئِں


