امریکہ اور اس کے اتحادی اس رائ یل نے ایران پر مشترکہ حملہ کر دیا اور تہران کے مرکز میں دھماکوں کی آوازین سنی گئی ہیں۔
ان دونوں طاقتوں ایران کے خلاف ایک ایسا حملہ شروع کیا ہے جسے وہ ’پری ایمپٹو/قبل از وقت حملہ‘ قرار دے رہا ہے۔
آج صبح جاری کردہ ایک بیان میں، اس رائ یی لی وزیر دفاع نے پورے املک میں ’خصوصی اور مستقل ہنگامی حالت‘ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ تہران کے مرکز میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
فارس نیوز ایجنسی نے تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ متعدد میزائل دانشگاہ سٹریٹ اور جمہوری کے علاقے میں گرے۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو ’یورینیم افزودہ کرنے سے بالکل باز رہنا چاہیے‘۔
خیال رہے امریکہ کے تہران کے ساتھ حالیہ مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے ہیں۔
رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے مطمئن نہیں ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہونے والے مواد کی پیداوار نہ کرے۔
ٹرمپ کے بیانات نے خدشات بڑھا دیے ہیں کہ امریکہ ممکنہ طور پرایران پر کسی حملے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ امریکی شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئیں


