ایران میں ریاستی میڈیا کے مطابق ماہرین کی مجلس خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے۔
88 رکنی مجلس خبرگان نے بھاری اکثریت سے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کیا، وہ امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ملک کے تیسرے سپریم لیڈر ہیں۔
سرکاری میڈیا کے حوالے سے مختلف خبر رساں اداروں نے یہ خبر ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو باضابطہ طور پر ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی قیادت سونپ دی گئی۔
مجتبیٰ خامنہ ای ایک درمیانے درجے کے مذہبی عالم ہیں اور انہیں ایران کی طاقتور اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث طویل عرصے سے اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی حکومتی اشرافیہ کے بعض حلقے پہلے ہی مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت کے لیے موزوں سمجھتے تھے جبکہ ان کے والد کے دفتر اور اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کی حمایت بھی انہیں حاصل تھی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا انقلابی نظریہ موروثی اقتدار کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا تاہم موجودہ حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ایران کی طاقت کے مراکز خاص طور پر انقلابی گارڈز کی حمایت کے باعث ممکن
قبل سزیںسینئر ایرانی عالمِ دین احمد علم الہدیٰ نے کہا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کر لیا گیا ہے اور اس کا باضابطہ اعلان جلد مجلس خبرگان رهبری کے سیکریٹریٹ کی جانب سے کیا جائے گا۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مجلس خبرگان کے زیادہ تر اراکین اس بات پر متفق ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان کی اکثریت کا یہ اتفاق رائے عوامی خواہشات اور مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ چند اراکین کی مختلف آراء بھی موجود ہیں، تاہم یہ اختلاف رائے مخلصانہ نوعیت کا ہے اور اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد نہیں۔
نئے سپریم لیڈر کے باضابطہ اعلان میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ سیکیورٹی خدشات بتائی جا رہی ہے۔
مجلس خبرگان کے رکن محمد میر باقر کا کہنا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر زیادہ تر ارکان اتفاق کر چکے ہیں، تاہم طریقۂ کار سے متعلق بعض رکاوٹیں ابھی باقی ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسمبلی کے ایک اور سینئر رکن نے بتایا کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے ارکان ایک دن کے اندر اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
کچھ اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔
، تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق ارکان کے درمیان اس بات پر معمولی اختلاف پایا جاتا ہے کہ حتمی فیصلہ باقاعدہ بالمشافہ اجلاس میں کیا جائے یا موجودہ غیر معمولی حالات کے باعث رسمی اجلاس کے بغیر ہی اعلان کر دیا جائے۔
اسمبلی آف ایکسپرٹس کے رکن محسن حیدری نے کہا کہ موجودہ حالات میں اسمبلی کا براہ راست اجلاس منعقد کر کے حتمی ووٹنگ کرانا ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے امیدوار کا انتخاب کیا گیا ہے جو مرحوم سپریم لیڈر کی اس ہدایت کے مطابق ہے کہ ایران کا اعلیٰ رہنما وہ ہونا چاہیے جسے دشمن پسند نہ کرے بلکہ اس سے خائف ہو۔
یہ بھی پرھئِے


