بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو ‘ کوچ گوتم گمبھیر اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین جے شاہ نے احمد آباد میں ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل کے بعد نریندر مودی سٹیڈیم کے قریب واقع ہنومان مندر کا دورہ کیا تھا اور اپنے ساتھ ٹرافی بھی مندر لیکر چلے گئے۔
۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سوریا کمار اور گبمھیر انڈین ٹیم کی جرسی میں ہیں۔اس دوران سوریا کمار کے ہاتھ میں ٹرافی ہے اور ان کا استقبال پھول نچھاور کر کے کیا جا رہا ہے۔
بھارت میں انڈین ٹیم۔کے کپتان اور جے شاہ پر تنقید ہو رہی ہے کہ جب ٹرافی مسجد چرچ یا گردوارہ نہیں جا سکتی تو مندر میں کیوں ؟ کیا یہ ٹیم۔انڈیا ہے یا ہندو !
بعض شائقین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جب ’سراج اسے مسجد میں نہیں لے گئے، سنجو اسے چرچ میں نہیں لے کر گئے۔
مندر میں عبادت اور تصاویر
اس دوران تینوں شخصیات نے مندر میں حاضری دی اور مداحوں کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جے شاہ مندر کے پنڈت کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: “ہیلو پنڈت جی، سیتا رام۔”
پنڈت کا دعویٰ
بھارتی اخبار کے مطابق مندر کے پنڈت نے بتایا کہ فائنل میچ سے قبل کپتان سوریا کمار یادیو اور کوچ گوتم گمبھیر نے ہنومان جی سے دعا کی تھی کہ بھارت اس بار ورلڈ کپ جیت جائے۔ ان کے بقول جے شاہ نے بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر بھارت جیت گیا تو وہ ٹرافی مندر لے کر آئیں گے، اور جیت کے بعد انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔
سوشل میڈیا پر تنقید
مندر میں ٹرافی لے جانے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ صارفین نے اس اقدام کو سراہا جبکہ بعض نے اس پر تنقید بھی کی ہے۔
سابق کرکٹر کی تنقید
سابق بھارتی کرکٹر اور سیاست دان Kirti Azad نے اس ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جب Kapil Dev کی قیادت میں بھارت نے 1983 کا ورلڈ کپ جیتا تھا تو ٹیم میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی شامل تھے اور ٹرافی پورے بھارت کے نام کی گئی تھی۔


