پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد Sarfaraz Ahmed نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
سرفراز احمد کے اعلان کے بعد ان کے تقریباً دو دہائیوں پر محیط کرکٹ کیریئر کا اختتام ہو گیا ہے۔
وہ عمران خان کے بعد واحد پاکستانی کپتان جس نے 50 اوورز کی آئی سی سی ٹرافی جیتی۔انھوں نے پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 جتوانے میں کامیابی حاصل کی جہاں ٹیم نے فائنل میں انڈیا کو 180 رنز سے شکست دی۔ اس کے ساتھ سرفراز پاکستان کے پہلے کپتان بن گئے جنھوں نے چیمپئنز ٹرافی جیتی اور وہ واحد کپتان ہیں جنھوں نے جونیئر (2006 میں آئی سی سی انڈر 19) اور سینئر سطح پر آئی سی سی ٹائٹلز جیتے۔
کراچی میں پیدا ہونے والے سرفراز احمد نے 2007 میں پاکستان کے لیے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا اور بعد ازاں قومی ٹیم کے اہم کھلاڑی اور کپتان کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔
ریٹائرمنٹ کے اعلان پر انہوں نے کہا کہ کرکٹ کھیلنے والے ہر بچے کا خواب ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کی نمائندگی کرے اور ملک کے لیے میدان میں اترے۔
انہوں نے کہا، “میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے پاکستان کے لیے کھیلنے کا موقع ملا اور میں نے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔”
Pakistan Cricket Board کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سرفراز احمد نے بتایا کہ ان کے کرکٹ کیریئر کی شروعات عام گلیوں سے ہوئی تھی، جہاں وہ ٹینس بال سے کرکٹ کھیلتے تھے۔
ان کے مطابق انہوں نے محلے کے گراؤنڈ سے کھیلنا شروع کیا اور پھر ٹیپ بال سے ہوتے ہوئے ہارڈ بال کرکٹ تک کا سفر طے کیا۔
اپنی ریٹائرمنٹ کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ یہ ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کرکٹر کے لیے کرکٹ کو خیرباد کہنا آسان نہیں ہوتا۔
سرفراز احمد نے انڈر 19 ٹیم کی کپتانی کے دنوں کو بھی یاد کیا۔
انہوں نے بتایا کہ جب پہلی بار انہیں انڈر 19 ٹیم میں منتخب کیا گیا اور کپتان بنایا گیا تو انہوں نے فوری طور پر اپنے والدین کو فون کر کے یہ خوشخبری سنائی۔
ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں کامیابی اور ناکامی دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کھلاڑی کو سخت تنقید بھی سننی پڑتی ہے۔ “محنت کر کے دوبارہ واپس آنا پڑتا ہے، اور میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میرے کیریئر میں بہت اچھے لوگ میرے ساتھ رہے۔”
یہ بھی پڑھئیے


