حکومت رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر ٹیکس کم کرنے اور اوورسیز پاکستانیوں کو بغیر ہراسانی اور مشکلات کے سرمایہ واپس لانے کا ایک جامع پلان تشکیل دے رہی ہے۔اس سے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے متاثر اوورسیز اپنا پیسہ پاکستان میں منتقل کر سکیں گے۔جبکہ اس نئے پلان کے مطابق پراپرٹی سیکٹر کو سہارا دیا جا سکے۔
نئے قوانین کا نفاز اور آئی ایم ایف
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے رئیل اسٹیٹ پیکج کی سفارشات کو حتمی شکل دینے کی منظوری دے دی ہے۔ان سفارشات میں سے کچھ اقدامات بجٹ سے پہلے بھی نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق اندرونی تیاری کے بعد پاکستان اس معاملے کو آئی ایم ایف کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرے گا۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد گزشتہ جمعہ کو ایک اور اجلاس ہوا جس میں تجاویز کو مزید بہتر بنایا گیا۔
وزارتِ ہاؤسنگ کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پراپرٹی سیکٹر میں ٹیکس کمی اور اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ اس منصوبے کی نگرانی وزارت ہاؤسنگ کر رہی ہے۔ اس کی کامیابی سے تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا ۔اس پلان کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کا ازالہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں بھاری ٹیکسوں باعث پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر سکڑ گیا ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث وہاں بھی پراپرٹی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔مشرق وسطیٰ میں پراپرٹی کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سرمایہ کار پریشان ہیں۔
حکومت کی سیلف ڈیکلریشن سکیم
حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سیلف ڈیکلریشن اسکیم متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ اس سکیم کے مطابق وہ آسانی سے سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ حکام کے مطابق اگر بہتر پالیسیاں ہوں تو خلیجی ممالک سے سرمایہ پاکستان منتقل ہو سکتا ہے۔
حال ہی میں حکومت نے کم شرح سود کے ساتھ ہاؤسنگ فنانس اسکیم بھی متعارف کرائی ہے۔ اس میں 10 لاکھ روپے تک قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ شرح سود کو کم کر کے تقریباً 5 فیصد تک لایا گیا ہے۔جبکہ بینکوں کو قرض دینے کے اہداف دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ماہرین کے مطابق ان اسکیموں کو ہاؤسنگ فنانس کمپنیوں اور نان بینکنگ اداروں تک بھی بڑھایا جانا چاہیے۔اگر ایسا کیا جاتا ہے تو کم آمدنی والے افراد فائدہ اٹھا سکیں گے۔
رئیل اسٹیٹ میں کتنی ٹیکس کمی ہوگی
حکومت پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے اور خرید پر 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
وزیراعظم پہلے ہی ایک فیصد ڈیمڈ انکم ٹیکس ختم کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔اس کو عدالت میں بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ ایک کنال تک کے پہلے گھر یا پلاٹ کی خریداری پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ہاؤسنگ قرض کی قسطوں کو آمدن کے بجائے اخراجات تصور کیا جائے۔ایسا اس لیے بھی کیا جاے تاکہ ٹیکس کا بوجھ کم ہو۔ اگر آئی ایم ایف ٹیکس میں کمی پر اعتراض کرے تو حکومت پراپرٹی کی ویلیوایشن کم کر سکتی ہے۔
حکام کے مطابق مختلف اداروں کی جانب سے مقرر کردہ پراپرٹی ویلیوایشن کو یکساں بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔اگر حکومت اس بارئے اقدام اٹھاتی ہے تو نظام میں یکسانیت پیدا ہو گی۔
حکومت ہاؤسنگ سیکٹر سے متعلق قوانین کی منظوری بھی تیز کر رہی ہے۔ جن میں نیشنل ہاؤسنگ پالیسی، کنڈومینیم لا اور فورکلوژر لا شامل ہیں۔
وزیر اعظم کو بریفنگ
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان اقدامات کا مقصد تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینا، معیشت کو مضبوط کرنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عوام کو ہاؤسنگ قرضوں کی فراہمی اولین ترجیح اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری سے نہ صرف معیشت بہتر ہوگی بلکہ لاکھوں نوکریاں بھی پیدا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئِے


