امریکی خلائی ادارے NASA کے آرٹیمس 2 مشن کی پرواز روایتی انداز میں سیدھے چاند کی طرف نہیں ہوگی بلکہ ایک منفرد “فگر ایٹ” (8 کے ہندسے جیسا) راستہ اختیار کیا جائے گا۔

اس حکمتِ عملی کا مقصد مشن کو زیادہ محفوظ بنانا، ایندھن کی بچت کرنا اور آئندہ چاند مشنز کے لیے قیمتی ڈیٹا حاصل کرنا ہے۔
ناسا کے مطابق Orion spacecraft نے حال ہی میں اپنے سروس ماڈیول کے مرکزی انجن کو تقریباً 6 منٹ تک چلایا، جس سے تقریباً 6 ہزار پاؤنڈ تھرسٹ پیدا ہوئی۔ اس عمل کے ذریعے خلانوردوں کو چاند کی سمت روانگی کے لیے مطلوبہ رفتار فراہم کی گئی۔
زمین کے گرد چکر
“I’m the space plumber, I’m proud to call myself the space plumber.”
Mission specialists like @Astro_Christina train for all roles so they can jump in wherever they’re needed. Sometimes that means fixing vital machinery, like the spacecraft toilet. pic.twitter.com/RGBWkwRgX7
— NASA (@NASA) April 3, 2026
ماہرین کے مطابق Artemis II mission کا سفر ماضی کے Apollo program کی طرح براہِ راست نہیں ہوگا، بلکہ یہ تقریباً 10 دن پر مشتمل “فری ریٹرن ٹریجیکٹری” پر مبنی ہوگا۔ اس دوران خلائی جہاز پہلے زمین کے گرد ایک مخصوص مدار میں گردش کرے گا، پھر چاند کے گرد گھومتے ہوئے دوبارہ زمین کی طرف لوٹ آئے گا۔
مشن کے آغاز میں خلائی جہاز کو تقریباً 24 گھنٹے تک زمین کے بیضوی مدار میں رکھا جائے گا، تاکہ حفاظتی جانچ، سسٹمز کی کارکردگی کا جائزہ اور خلانوردوں کی تربیتی مشقیں مکمل کی جا سکیں۔ اس دوران عملہ دستی کنٹرول کی پریکٹس بھی کرے گا، جو مستقبل کے لینڈنگ مشنز کے لیے نہایت اہم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا میں سفر سیدھی اوپر کی سمت نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے اور زمین کی کششِ ثقل خلائی جہاز کو واپس کھینچ سکتی ہے۔
اسی لیے خلائی جہاز کو تیز رفتاری سے زمین کے گرد گھما کر آگے بھیجا جاتا ہے تاکہ توانائی مؤثر طریقے سے استعمال ہو۔
8کے ہندسے میں سفر
آرٹیمس 2 مشن چاند کے مدار میں داخل ہونے کے بجائے اس کے دور والے حصے کے گرد فگر ایٹ راستے پر سفر کرے گا، جہاں چاند کی کششِ ثقل کو “سلنگ شاٹ” کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اس طریقے کی خاص بات یہ ہے کہ اگر انجن ناکام بھی ہو جائے تو خلائی جہاز خود بخود زمین کی طرف واپس آ سکتا ہے، جس سے مشن مزید محفوظ ہو جاتا ہے۔
ناسا کے مطابق یہ مشن زمین سے 248 ہزار میل سے زائد فاصلے تک جائے گا، جو ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔ جہاں اپالو مشنز چاند کی سطح سے 60 سے 70 میل کی بلندی تک پہنچے تھے، وہیں آرٹیمس 2 چاند سے تقریباً 4 ہزار سے 6 ہزار میل کے فاصلے سے گزرے گا۔
اس سے نہ صرف چاند کے دور دراز حصوں کا بہتر مشاہدہ ممکن ہوگا بلکہ واپسی کا سفر بھی زیادہ محفوظ رہے گا۔
خلائی ادارے کے مطابق اس منفرد سفر کے دوران حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کے Artemis III اور Artemis IV مشنز کی تیاری میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھئیے


