پاکستان میں افغان پناہ گزین (Afghan Refugees) اور غیر قانونی افغان شہری کی وطن واپسی کا عمل مزید تیز ہو گیا ہے۔ حکومت کی مقررہ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسے افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں بڑھا دی ہیں جو رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس نہیں جا رہے۔
حکومتِ پاکستان (Pakistan) نے 2023 میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات (Security Concerns) اور دہشت گردی (Terrorism) کے واقعات کے تناظر میں غیر قانونی افغان شہریوں (Illegal Afghan Nationals)کی افغان واپسی (Afghan Repatriation) کا فیصلہ کیا تھا۔ 10 جولائی تک رضاکارانہ واپسی (Voluntary Repatriation) کی مہلت دی گئی، تاہم مدت ختم ہونے کے بعد پولیس کارروائیوں (Police Raids) میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
پشاور (Peshawar)، حیات آباد (Hayatabad)، بورڈ بازار (Board Bazaar) اور دیگر علاقوں میں مقیم افغان باشندے گرفتاری کے خدشے کے باعث خوف کا شکار ہیں۔ متعدد افراد نے کاروبار محدود کر دیا ہے جبکہ کئی دکانیں بند رہتی ہیں۔

کاروائیوں میں تیزی
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 11 سے 16 جولائی کے دوران طورخم بارڈر (Torkham Border) کے ذریعے 23 ہزار 336 افغان شہری افغانستان واپس گئے۔ حکام کے مطابق پہلے روزانہ 400 سے 600 افراد واپس جا رہے تھے، لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 3400 سے 4100 یومیہ تک پہنچ چکی ہے۔
اسی دوران 2,163 غیر قانونی افغان شہری (Illegal Afghan Nationals) کو ملک بدری (Deportation) کے عمل کے تحت واپس بھیجا گیا، جبکہ صرف پشاور میں پانچ روز کے دوران 600 سے زائد افراد کو حراست میں لے کر افغانستان روانہ کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق کارروائیوں کے دوران ویزا (Visa) اور دیگر سفری دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ جن افراد کے پاس قانونی کاغذات موجود نہیں ہوتے، انہیں حراستی مراکز (Detention Centers) منتقل کرنے کے بعد طورخم کراسنگ (Torkham Crossing) کے راستے افغانستان بھیجا جاتا ہے۔
گھروں کی مسماری
پشاور کے خزانہ کیمپ میں مقیم افغان پناہ گزین وطن واپسی کی تیاریوں کے دوران صرف اپنا سامان ہی سمیٹنے میں مصروف نہیں بلکہ کئی خاندان برسوں کی محنت سے تعمیر کیے گئے اپنے گھروں کو بھی خود مسمار کر رہے ہیں۔ متعدد مکانات کی چھتیں اتار دی گئی ہیں، دروازے اور کھڑکیاں نکال لی گئی ہیں، جبکہ کئی گھروں کی جگہ اب صرف اینٹوں کے ڈھیر باقی رہ گئے ہیں۔ یہ وہ رہائش گاہیں ہیں جو افغان خاندانوں نے گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں کے دوران اپنی محنت کی کمائی سے تعمیر کی تھیں، لیکن اب وطن واپسی کے باعث انہیں اپنے ہاتھوں سے ہی ختم کرنا پڑ رہا ہے۔
کتنے افغانی واپس جا چکے ؟
اقوام متحدہ (United Nations) اور یو این ایچ سی آر (UNHCR) کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک 24 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان چھوڑ چکے ہیں، جن میں تقریباً دو لاکھ افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا جبکہ باقی نے رضاکارانہ طور پر وطن واپسی اختیار کی۔
مذید خبریں
افغان کارڈ ختم کرانے کے لیے 26 ہزار درخواست گزار کون، نادرا نے تفصیلات دے دیں – urdureport.com
افغانستان بائی پاس ! پاکستان نے نئی راہداری تلاش کرلی – urdureport.com
افغانستان میں شعیہ برادری پر طالبان کی پابندیوں میں اضافہ کیوں،بی بی سی کی رپورٹ – urdureport.com
دوسری جانب بعض افغان شہری، جنہوں نے پاکستانی شہریوں سے شادیاں کر رکھی ہیں یا جنہیں افغانستان واپسی پر خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہے، پشاور ہائی کورٹ (Peshawar High Court) سے قانونی ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح رضاکارانہ واپسی (Voluntary Repatriation) ہے، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے بعد ملک بدری مہم (Deportation Drive) قانون کے مطابق جاری رہے گی۔


