پاکستان نے علاقائی تجارت کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے سنٹرل ایشین ریاستوں کے لیے متبادل تجارتی راہداری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
اس نئی راہداری کے تحت کرغزستان سے آنے والا پہلا ٹرک کامیابی کے ساتھ سوست ڈرائی پورٹ پہنچ گیا۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ نیا روٹ افغانستان کو بائی پاس کرتا ہے، جس سے وسط ایشیائی ممالک اور پاکستان کے درمیان تجارت کے لیے ایک متبادل اور محفوظ راستہ میسر آ گیا ہے۔ وفاقی مشیر برائے خزانہ خرم شہزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اس پیش رفت کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ دولت مشترکہ آزاد ریاستوں (CIS) کے کسی ملک کی ٹرانسپورٹ نے براہ راست پاکستان تک رسائی حاصل کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس راہداری سے روایتی تجارتی راستوں پر انحصار کم ہوگا اور پاکستان اور وسط ایشیا کے درمیان تجارتی روابط کو مزید فروغ ملے گا۔ اس پیش رفت کو نجی شعبے کی کامیابی بھی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں ہیمانی گروپ نے کلیدی کردار ادا کیا۔
اس منصوبے میں کرغزستان میں پاکستانی سفارتخانے کی معاونت کے ساتھ ساتھ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون بھی شامل رہا، جس سے اس روٹ کو عملی شکل دینے میں مدد ملی۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دے گا بلکہ ایک مضبوط، مؤثر اور متنوع تجارتی نیٹ ورک کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔


