واشنگٹن: امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون (Amazon) نے دنیا بھر میں موبائل صارفین کو سیٹلائٹ کے ذریعے براہِ راست رابطے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) سے کم زمینی مدار (Low Earth Orbit) میں پانچ ہزار سے زائد سیٹلائٹس تعینات کرنے کی اجازت طلب کی ہے تاکہ 2028 تک ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس (Direct-to-Device – D2D) سروس شروع کی جا سکے۔
ایمازون کے مطابق نئی سروس صارفین کو ایسے علاقوں میں بھی موبائل کنیکٹیویٹی فراہم کرے گی جہاں روایتی موبائل ٹاورز موجود نہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نظام خاص طور پر دور دراز علاقوں، قدرتی آفات سے متاثرہ مقامات، ہنگامی امدادی کارروائیوں اور لاجسٹکس نیٹ ورکس کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا، کیونکہ اس کے ذریعے مسلسل رابطہ برقرار رکھا جا سکے گا۔

سٹار لنک کو چیلنج
یہ منصوبہ سپیس ایکس (SpaceX) کے سٹارلنک (Starlink) نیٹ ورک کے لیے براہِ راست چیلنج تصور کیا جا رہا ہے، جو پہلے ہی ٹی موبائل (T-Mobile) کے اشتراک سے سیٹلائٹ کے ذریعے موبائل سروس فراہم کر رہا ہے۔ ایمازون نے ووڈافون (Vodafone) اور ہیروٹل (HeroTel) سمیت مختلف ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری بھی قائم کی ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کو موجودہ موبائل نیٹ ورکس کے ساتھ مربوط کیا جا سکے۔
کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ معاون آئی فون (iPhone) اور ایپل واچ (Apple Watch) ڈیوائسز کے لیے سیٹلائٹ سروسز فراہم کرنے کے حوالے سے ایپل (Apple) کے ساتھ بھی تعاون کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایمرجنسی ایس او ایس (Emergency SOS) اور فائنڈ مائی (Find My) جیسی سہولیات مزید مؤثر بنائی جائیں گی۔
ایمازون کی کاروائی
ایمازون اب تک اپنے براڈبینڈ سیٹلائٹ منصوبے کے تحت تقریباً 400 سیٹلائٹس خلا میں بھیج چکا ہے اور رواں سال کے اختتام تک محدود پیمانے پر کمرشل انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم کمپنی کے سیٹلائٹس کی تعداد اب بھی سٹارلنک کے 10 ہزار سے زائد سیٹلائٹس کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
مذید خبریں
انسان مریخ پر کہاں قدم رکھے گا جگہ کا تعین کر لیا گیا – urdureport.com
یوٹیوب شارٹس کے لیے کسٹم تھمب نیل فیچر متعارف : پسند کی تصویر لگایں – urdureport.com
دوسری جانب کمپنی کو رواں سال اس وقت دھچکا بھی لگا جب اس کا نیو گلین (New Glenn) راکٹ آزمائشی پرواز کے دوران لانچ پیڈ پر حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے باعث سیٹلائٹس کی لانچنگ کا شیڈول متاثر ہوا۔ اس کے باوجود ایمازون کا دعویٰ ہے کہ جدید اینٹینا ٹیکنالوجی کی مدد سے وہ مستقبل میں دنیا کی تیز ترین خلائی انٹرنیٹ اور موبائل کنیکٹیویٹی سروس فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


