راولپنڈی پولیس نے ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلمنہ کے قتل کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مقتولہ کے والد اور بھائی سمیت 5 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
پانچ ملزمان گرفتار
پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں عائشہ گلمنہ کے والد، بھائی، ایک کزن، والد کے چچا اور کزن کا بیٹا شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس ابتدائی طور پر ایک ایسے قتل کے طور پر سامنے آیا تھا جس کا سراغ لگانا مشکل تھا، تاہم فرانزک شواہد، انسانی انٹیلی جنس اور تکنیکی نگرانی کی مدد سے ملزمان تک پہنچا گیا۔
14 اگست کو فائرنگ سے قتل
شمسو بی بی عرف عائشہ گلمنہ کو 14 اگست کو تھانہ ٹیکسلا کی حدود میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ وہ اپنے بہن بھائیوں کے ہمراہ فیصل ٹاؤن میں واقع والد کے گھر جا رہی تھیں کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گاڑی پر فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے نتیجے میں گولی عائشہ کی گردن پر لگی اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگئیں، جبکہ ان کے بہن اور بھائی بھی زخمی ہوئے۔ فائرنگ کے بعد گاڑی ایک ڈمپر سے ٹکرا گئی۔
قتل میں غیرت کا شبہ
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں قتل کا محرک مبینہ طور پر غیرت کا معاملہ سامنے آیا ہے، تاہم مزید تحقیقات کے دوران مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔
پولیس نے 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لینے کے علاوہ دیگر تکنیکی ذرائع اور انسانی انٹیلی جنس کو بھی استعمال کیا۔
ایف آئی آر میں مختلف مؤقف
عائشہ گلمینہ کے قتل کی ابتدائی ایف آئی آر ان کے والد کی مدعیت میں درج ہوئی تھی، جس میں قتل کی وجہ مالی تنازع قرار دی گئی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق عائشہ نے اہلخانہ کو بتایا تھا کہ دو افراد نے ان سے رقم لی ہوئی تھی اور مبینہ طور پر انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔ مقتولہ کے بھائی رحمت اللہ نے بھی ابتدا میں قتل کو مالی تنازع سے جوڑا تھا۔
تاہم بعد میں پولیس نے مقتولہ کے والد اور دیگر اہلخانہ کو بھی تفتیش میں شامل کیا۔
عائشہ کے 13 لاکھ فالوورز تھے
ایف آئی آر کے مطابق عائشہ گلمنہ گزشتہ 3 سے 4 برس سے ٹک ٹاک پر فعال تھیں اور ان کے تقریباً 13 لاکھ فالوورز تھے۔
ان کے بھائی کے مطابق عائشہ 10 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھیں اور ان کے تین بچے تھے۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ رہنے کے بجائے اسلام آباد میں کرائے کے مکان میں مقیم تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور قتل کے محرکات اور دیگر حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید واضح ہوں گے۔


