اردو رپورٹ ڈیسک
راولپنڈی کے علاقے لالکرتی میں 45 سالہ خاتون حنا جاوید کی گھر کے باتھ روم سے لاش برآمد ہونے کے بعد پولیس نے ان کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
لاش باتھ روم سے برآمد
مقدمے کے مطابق حنا جاوید کی لاش 20 اگست کی صبح ان کے گھر کے باتھ روم سے ملی۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور گلے میں بجلی کی تار موجود تھی۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں جبکہ مقتولہ کا پوسٹ مارٹم بھی مکمل ہوچکا ہے اور رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
شوہر اور ملازم گرفتار
پولیس کے مطابق حنا جاوید کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔
مقتولہ کے بھائی فہد جاوید ملک نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بہن کو شوہر نے ملازم اور اپنے والد کے ساتھ مل کر قتل کیا۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
اہلخانہ کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
فہد جاوید ملک نے واقعے پر شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جائے وقوعہ پر جو منظر دیکھا وہ انتہائی خوفناک تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ خاندان کو انصاف چاہیے اور واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
اہلخانہ کے مطابق حنا جاوید اپنے والدین کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور تقریباً 15 سال تک قومی اسمبلی میں کام بھی کرچکی تھیں۔
ایف آئی آر میں کیا ہے ؟
ایف آئی آر کے مطابق، جو 20 اگست کو تھانہ سول لائنز میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302 (قتلِ عمد) اور 34 (مشترکہ نیت) کے تحت درج کی گئی، حنا کے بھائی فہد جاوید نے الزام عائد کیا کہ ان کی بہن کو ان کے شوہر، سسر اور گھریلو ملازم نے مل کر قتل کیا۔
فہد جاوید نے پولیس کو بتایا کہ جمعرات کی شام تقریباً 6 بج کر 53 منٹ پر انہیں اپنی بہن کے سسر کی جانب سے فون موصول ہوا، جس میں گھر میں ہنگامی صورتحال کی اطلاع دی گئی۔ ان کے مطابق وہ دیگر اہلخانہ کے ہمراہ فوری طور پر اپارٹمنٹ پہنچے اور تقریباً 7 بج کر 23 منٹ پر وہاں پہنچ گئے۔
فہد نے دعویٰ کیا کہ گھر پہنچنے پر انہوں نے اپنی بہن کی لاش باتھ روم میں دیکھی۔ درخواست گزار نے مزید الزام عائد کیا کہ حنا کو ان کے شوہر کی جانب سے شدید تشدد اور بدسلوکی کا سامنا تھا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ممکنہ طور پر حنا کو موت سے قبل کوئی زہریلی چیز دی گئی تھی۔
شادی کے بعد رویے میں تبدیلی کا دعویٰ
اہلخانہ نے پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی دباؤ یا تاخیر کے بغیر قتل کیس میں تحقیقات مکمل کی جائیں اور اگر کوئی شخص ذمہ دار ثابت ہو تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور جاری تفتیش کے بعد سامنے آئیں گے۔


