کراچی میں میر رضا کے اہل خانہ اور دوستوں نے اپنے عزیز کے قتل میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کے مطالبے کے لیے شارع فیصل پر احتجاجی دھرنا دے دیا۔ احتجاج کے باعث نرسری کے مقام پر شارع فیصل کی ایک ٹریک ٹریفک کے لیے بند ہوگئی، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاجی ریلی
احتجاج سے قبل میر رضا کے والد، اہل خانہ اور دوستوں نے ان کی قبر پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔
بعد ازاں مظاہرین ریلی کی صورت میں قبرستان سے نرسری پہنچے، جہاں انہوں نے دھرنا دے کر قاتلوں کی گرفتاری اور ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
میڈیا ٹاک
میر رضا کے والد میر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج یومِ آزادی کے موقع پر ان کے بیٹے کی قبر پر فاتحہ خوانی کی گئی۔
ان کے مطابق میر رضا کو پاکستان سے بے حد محبت تھی اور وہ ہر سال آزادی کا دن بھرپور انداز میں منایا کرتا تھا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈی آئی جی ایسٹ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے، جبکہ فیروز آباد تھانے کے ایس ایچ او اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کو بھی معطل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقدمے کی تفتیش میں مبینہ تاخیر ہوئی اور شواہد کو چھپانے کی کوشش کی گئی، جس کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔
باپ کا الزام
میر حسین نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد 12 روز تک ان کے خاندان کو مختلف معاملات میں الجھایا جاتا رہا اور اس دوران پولیس کی جانب سے مطلوبہ پیش رفت نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ان دنوں ڈی آئی جی ایسٹ کی جانب سے اہل خانہ سے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا گیا۔
میر رضا کے والد کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ تفتیشی ٹیم کو بھی کام کرنے کا موقع دے رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس بار معاملے کی شفاف تحقیقات ہوں گی اور ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ خاندان کا بنیادی مطالبہ صرف انصاف کی فراہمی اور میر رضا کے قاتلوں کی گرفتاری ہے، جبکہ ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔


