کراچی: وفلکس (Wafflix) کے مالک میر رضا علی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، قتل سے قبل انہیں لے جانے والے آن لائن رائیڈ ہیلنگ ڈرائیور احسان اللہ نے ان کے آخری سفر کی تفصیلات بیان کردی ہیں۔
ڈرائیور کا ویڈیو بیان بدھ کو سامنے آیا، جس میں اس نے بتایا کہ میر رضا علی نے سفر کے دوران خود مختلف راستوں کی ہدایات دیں اور آخر میں انہیں ایک بینک کے باہر اتارا گیا۔
میر رضا علی کی آخری رائیڈ ؟
احسان اللہ کے مطابق میر رضا علی نے 28 جولائی کی صبح 3 بج کر 57 منٹ پر رائیڈ بک کی، جسے اس نے فوری طور پر قبول کرلیا۔
ڈرائیور نے بتایا کہ وہ صبح 4 بج کر 6 منٹ پر پک اپ لوکیشن پر پہنچا اور ایک منٹ بعد یعنی 4 بج کر 7 منٹ پر میر رضا علی کو فون کرکے اپنی موجودگی سے آگاہ کیا۔
اس کے مطابق میر رضا علی نے اسے دو منٹ انتظار کرنے کا کہا اور تقریباً 4 بج کر 9 منٹ پر گاڑی میں آکر بیٹھ گئے، جس کے بعد سفر شروع ہوگیا۔
خالد بن ولید روڈ سے طارق روڈ تک سفر
احسان اللہ نے بتایا کہ گاڑی میر رضا علی کے گھر سے نکل کر خالد بن ولید روڈ کی طرف جارہی تھی کہ انہوں نے ڈرائیور کو راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت کی۔
ڈرائیور کے مطابق میر رضا علی نے اسے ایک طرف مڑنے سے روکا اور امتیاز کی جانب جانے والے راستے سے طارق روڈ کی طرف جانے کو کہا۔
اس دوران میر رضا علی نے گاڑی میں اسپیکر یا بلوٹوتھ کے بارے میں دریافت کیا اور اپنا موبائل فون گاڑی سے کنیکٹ کرکے موسیقی چلائی۔
احسان اللہ کے مطابق وہ گاڑی کی نیویگیشن فالو کررہا تھا جبکہ میر رضا علی بھی اسے مختلف مقامات پر راستہ بتاتے رہے۔
بہادرآباد، اسٹیڈیم روڈ اور جوہر موڑ
ڈرائیور نے بتایا کہ طارق روڈ کے بعد وہ بہادرآباد، آغا خان اسپتال، اسٹیڈیم روڈ، ملینیم اور پرفیوم چوک کی جانب گئے۔
بعد ازاں سفر جوہر موڑ، موسمیات اور سماما کی طرف جاری رہا اور گاڑی کانٹی نینٹل بیکری کے قریب پہنچی۔
احسان اللہ کے مطابق اس مقام پر میر رضا علی نے اسے ایک مخصوص موڑ لینے اور آگے جانے کی ہدایت کی، پھر گاڑی روکنے کا کہا۔
ڈرائیور نے بتایا کہ اس نے میر رضا علی کو ایک بینک کے سامنے اتارا اور اس کے بعد وہ وہاں سے چلا گیا۔
میر رضا علی قتل کیس میں تفتیش پر سوالات
25 سالہ میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کی لاش کراچی کے گلستانِ جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ ان کے جسم پر گولی لگنے کا زخم موجود تھا۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آنے والے شواہد نے کیس کی سمت تبدیل کردی، جس کے بعد سندھ پولیس نے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔ نئی ٹیم نے 10 اگست کو کیس کی باقاعدہ تحقیقات شروع کی تھیں۔
مذید پڑھئِے
میر رضا علی کی ہلاکت: سندھ حکومت کا عدالتی تحقیقات کرانے کا اعلان – urdureport.com
شرجیل میمن کی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف این سی سی آئی اے سے رجوع – urdureport.com
تفتیش کے دوران پولیس کی ابتدائی کارروائی اور میڈیکو لیگل عمل پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔ سندھ کے آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے بدھ کو خود اعتراف کیا کہ میر رضا علی کیس کی تحقیقات میں خامیاں ہوئی ہیں، جن میں میڈیکو لیگل عمل بھی شامل تھا۔ ان کے مطابق نئی ٹیم کو شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔
وکیل جبران ناصر کے بھی سنگین اعتراضات
میر رضا علی کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے بھی کیس کی تفتیش میں مبینہ سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے اور بعض پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ناصر نے تحقیقات کے دوران بعض شواہد اور کیس ہینڈلنگ پر سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قتل کیس کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
عدالت نے پولیس سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی
میر رضا علی قتل کیس میں عدالت نے پولیس کو تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی کر رکھی ہے۔
نئی تحقیقاتی ٹیم اب دوسرے پوسٹ مارٹم اور دیگر شواہد کی روشنی میں کیس کی کڑیاں جوڑنے میں مصروف ہے، جبکہ میر رضا علی کے آخری سفر سے متعلق ڈرائیور کا بیان بھی تفتیش کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک قتل کے محرکات اور ذمہ دار افراد کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔


