• Home  
  • میر رضا علی کی ہلاکت: سندھ حکومت کا عدالتی تحقیقات کرانے کا اعلان
- پاکستان

میر رضا علی کی ہلاکت: سندھ حکومت کا عدالتی تحقیقات کرانے کا اعلان

کراچی میں نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کے معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں سندھ حکومت نے کیس کی عدالتی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 25 سالہ میر رضا علی 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں مشتبہ حالات میں مردہ پائے گئے تھے۔ […]

کراچی میں نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کے معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں سندھ حکومت نے کیس کی عدالتی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

25 سالہ میر رضا علی 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں مشتبہ حالات میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی موت کے ابتدائی معائنے اور پوسٹ مارٹم کے حوالے سے سامنے آنے والے تضادات کے بعد معاملہ مسلسل متنازع بنتا گیا اور اہل خانہ کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔

کیس میں اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب 3 اگست کو کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں 14 خامیوں کی نشاندہی کی۔ اہل خانہ نے ابتدائی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا، جس کے نتیجے میں رضا علی کی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی اجازت دی گئی۔

تاہم بعد ازاں رضا علی کے اہل خانہ نے نئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ خاندان کا الزام تھا کہ محکمہ صحت سندھ سابق میڈیکل بورڈ میں تبدیلیاں کرنے اور کراچی ڈویژن سے باہر کے ارکان کو نئے بورڈ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اہل خانہ کے احتجاج کے بعد سابق میڈیکل بورڈ کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اور ہفتے کو قبر کشائی کے بعد میر رضا علی کا دوسرا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشافات

دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے کیس کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رضا علی کی لاش کی پشت پر گولی لگنے کا زخم موجود تھا، جبکہ جسم کے مختلف حصوں پر چوٹوں کے متعدد نشانات بھی پائے گئے۔

ان نتائج کے بعد اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر اور رضا علی کے والد میر حسین علی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نئی میڈیکل رپورٹ اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ رضا علی کو قتل کیا گیا۔

یہ معاملہ کئی روز سے کراچی کے مقامی میڈیا میں نمایاں طور پر زیر بحث ہے۔ اتوار کو سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار اور کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب رضا علی کے گھر پہنچے، جہاں انہوں نے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ایسٹ اور متعلقہ ایس ایس پی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ

وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی سفارش پر سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا تاکہ میر رضا علی کی موت کے تمام پہلوؤں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کیس کی تفتیش کے لیے ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں ایک نئی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ نئی ٹیم میں تین ایس ایس پیز کو شامل کیا گیا ہے۔

ضیا الحسن لنجار کے مطابق تحقیقاتی ٹیم رضا علی کے والدین سے مسلسل رابطے میں رہے گی اور اہل خانہ کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے کیس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ایک طویل اجلاس ہوا جو تقریباً چار گھنٹے جاری رہا۔ اجلاس میں میر رضا علی کی ہلاکت، اب تک ہونے والی تحقیقات اور کیس سے متعلق مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

رضا علی کے وکیل جبران ناصر نے ہفتے کو مطالبہ کیا تھا کہ موجودہ تفتیشی ٹیم کو مکمل طور پر تبدیل کیا جائے اور کیس کی تحقیقات ایسے افسران کے سپرد کی جائیں جن پر شفافیت اور غیر جانب داری کے حوالے سے اعتماد کیا جا سکے۔

پولیس نے قتل اور شواہد چھپانے کی دفعات شامل کر دیں

میر رضا علی کیس میں پولیس نے مقدمے کی اصل ایف آئی آر میں مزید سنگین دفعات بھی شامل کر دی ہیں۔

انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 8 اگست 2026 کو جاری ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ، جو قبر کشائی کے بعد تیار کی گئی، 29 جولائی 2026 کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متصادم ہے۔ اسی تضاد کے پیش نظر کیس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے نئی تفتیشی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

پولیس نے ابتدائی ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 201 بھی شامل کر دی ہیں۔

پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 دانستہ قتل سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 201 کسی جرم کے شواہد کو چھپانے، ضائع کرنے یا ان میں ردوبدل کرنے، یا مجرم کو قانونی کارروائی سے بچانے کے لیے غلط بیانی سے متعلق ہے۔

اس سے قبل مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 365 کے تحت درج کیا گیا تھا، جو اغوا سے متعلق ہے۔

موت کی حتمی وجہ کا تعین ابھی باقی

میڈیکل بورڈ نے میر رضا علی کی موت کی حتمی وجہ کے بارے میں اپنی رائے فی الحال محفوظ رکھی ہے۔ حکام کے مطابق کیمیکل اور ٹاکسی کولوجی ٹیسٹوں کے نتائج موصول ہونے کے بعد موت کی وجہ کے حوالے سے حتمی رائے قائم کی جائے گی۔

ان ٹیسٹوں سے یہ معلوم کرنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے کہ رضا علی کو لگنے والا جان لیوا گولی کا زخم خود لگایا گیا تھا یا وہ کسی دوسرے شخص کی جانب سے فائرنگ کا نتیجہ تھا۔

یوں پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے درمیان سامنے آنے والے تضادات، جسم پر موجود چوٹوں کے نشانات اور گولی کے زخم نے میر رضا علی کیس کو ایک اہم قانونی اور تفتیشی معاملہ بنا دیا ہے۔ اب جوڈیشل کمیشن اور نئی تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ 25 سالہ نوجوان کی موت کے اصل حالات کیا تھے اور آیا یہ واقعہ خودکشی تھا یا قتل۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!