پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران اب تک 26 لاکھ 89 ہزار 295 افغان شہری اپنے ملک واپس جا چکے ہیں، جبکہ پنجاب میں کارروائی کے نتیجے میں 140,468 بلا دستاویز افغان شہریوں کو واپس بھیجا گیا ہے۔
پنجاب کے محکمہ داخلہ کے مطابق وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت ایسے افغان شہری جن کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے قابلِ قبول اور مؤثر ویزا یا قانونی دستاویزات موجود نہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
محکمہ داخلہ کا بیان
محکمہ داخلہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں متعلقہ ادارے رہائشی علاقوں، کاروباری مراکز اور مارکیٹوں میں دستاویزات کی جانچ کر رہے ہیں۔ ایسے افراد جن کے پاس قیام سے متعلق ضروری دستاویزات موجود نہیں ہوتیں، انہیں حراست میں لے کر مخصوص ہولڈنگ سینٹرز منتقل کیا جاتا ہے، جہاں رجسٹریشن اور وطن واپسی کے انتظامات مکمل کیے جاتے ہیں۔
پنجاب میں 39 ہولڈنگ سینٹرز فعال حکام کے مطابق اس وقت پنجاب بھر میں 39 ہولڈنگ سینٹرز کام کر رہے ہیں، جہاں 188 افغان شہری موجود ہیں۔محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ ان مراکز میں زیرحراست افراد کو عارضی طور پر رکھا جاتا ہے اور ان کی شناخت، رجسٹریشن اور افغانستان واپسی کے لیے ضروری انتظامی کارروائی مکمل کی جاتی ہے۔
کاروائیوں کا اغاز
کارروائیوں کا آغاز 2023 میں ہواپاکستان نے اکتوبرک 2023 میں ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی واپسی کے لیے پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت ایسے غیر ملکیوں کو پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی جو قانونی سفری یا رہائشی دستاویزات کے بغیر ملک میں موجود تھے، جبکہ مقررہ مدت کے بعد واپسی نہ کرنے والوں کے خلاف ملک بدری کی کارروائی شروع کی گئی۔
افغان واپسی مہم
اس مہم کے نتیجے میں بڑی تعداد میں افغان شہری طورخم اور دیگر سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے افغانستان واپس گئے۔اقوام متحدہ کی جانب سے تحفظاتپاکستان کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی پر اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین UNHCR سمیت بعض بین الاقوامی اداروں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان اداروں نے خاص طور پر ان افغان شہریوں کے تحفظ پر زور دیا ہے جو افغانستان واپسی کی صورت میں سلامتی کے خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک میں قیام کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے قانونی دستاویزات کا ہونا ضروری ہے اور کارروائیاں ملکی قوانین اور حکومتی پالیسی کے تحت کی جا رہی ہیں۔
پنجاب میں نگرانی مزید سخت
پنجاب حکومت کے مطابق صوبے کا Foreign National Security Cell مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور کارروائیوں کی نگرانی کر رہا ہے۔حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی قیام، شناختی دستاویزات میں جعل سازی یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ پولیس یا حکام کو دیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شہریوں سے متعلق کارروائیوں کا بنیادی مقصد قانونی حیثیت کے بغیر ملک میں موجود افراد کی نشاندہی، ان کی رجسٹریشن اور حکومتی پالیسی کے مطابق واپسی کے عمل کو مکمل کرنا ہے۔


