افغانستان کے صوبہ ہرات (Herat) میں طالبان حکام نے خواتین کے لباس اور حجاب سے متعلق اپنے ضوابط پر عمل درآمد مزید سخت کرتے ہوئے مسلسل تیسرے روز بھی متعدد خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق تازہ کارروائیوں میں کم از کم چار خواتین کو گرفتار کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق جمعہ کی دوپہر ہرات کی معروف تجارتی شاہراہ 64 میٹر روڈ (64 Meter Road) پر طالبان اہلکاروں نے راہ چلتی خواتین کو روک کر ان کے لباس کا جائزہ لیا۔ کارروائی کے دوران چند خواتین کو مبینہ طور پر ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچھ شہریوں نے خواتین کی گرفتاری روکنے کی کوشش بھی کی، تاہم طالبان اہلکار انہیں اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب رہے۔ اس واقعے کے بعد بازار میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی خواتین اپنی خریداری ادھوری چھوڑ کر فوری طور پر علاقے سے نکل گئیں۔
Sources in Herat say the Taliban detained at least four women at shopping centres on the city’s 64-Metre Road on Friday afternoon over their clothing and hijab.https://t.co/NKc76MaJHa pic.twitter.com/7bQyWhP3lm
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 31, 2026
طالبان کا کیا حکم ؟
افغانستان میں طالبان (Taliban) حکومت نے ہفتے کے روز تمام افغان خواتین (Afghan Women) کے لیے عوامی مقامات پر سر سے پاؤں تک مکمل پردہ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس نئے حجاب حکم (Hijab Decree) کو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے خدشات کی تصدیق قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے طالبان اور پہلے ہی بداعتماد عالمی برادری (International Community) کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
طالبان کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق خواتین (Women) صرف ضرورت کے وقت ہی گھروں سے باہر نکلیں۔ اگر کسی خاتون نے مقررہ لباس اور ڈریس کوڈ (Dress Code) یا پردے کے ضوابط کی خلاف ورزی کی تو اس کی ذمہ داری اس کے قریبی مرد رشتہ دار (Male Relatives) پر عائد ہوگی۔ ایسے معاملات میں ابتدا میں طلبی کی جائے گی، جبکہ بار بار خلاف ورزی کی صورت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
یہ حکم طالبان کی جانب سے حالیہ عرصے میں جاری کیے گئے سخت گیر فرمان (Decree) کی ایک اور کڑی ہے، اگرچہ ان میں سے بعض پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ گزشتہ ماہ طالبان نے خواتین کے اکیلے سفر (Women Traveling Alone) پر بھی پابندی عائد کی تھی، تاہم عوامی ردعمل کے بعد اس حکم پر بڑے پیمانے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

تین روز سے جاری کاروائیاں
مقامی ذرائع کے مطابق ہرات میں گزشتہ تین روز کے دوران مختلف مقامات پر خواتین کے خلاف ایسی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ ایک روز قبل بھی طالبان کی امر بالمعروف و نہی عن المنکر (Ministry for the Promotion of Virtue and Prevention of Vice) سے وابستہ اہلکاروں نے شہر کے مختلف علاقوں سے متعدد خواتین کو حراست میں لیا تھا، جبکہ اس سے پہلے بھی کم از کم پانچ خواتین کو 64 میٹر روڈ، پل رنگینہ (Pul-e Rangina) اور دیگر تجارتی مراکز سے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران بعض ایسی خواتین کو بھی روک کر پوچھ گچھ کی گئی جو طالبان کے مقرر کردہ لباس کے مطابق ملبوس تھیں، جس سے عوام میں بے یقینی اور خوف کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔
طالبان حکام نے ہرات میں خواتین کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ صرف مقررہ اسلامی ڈریس کوڈ کے مطابق لباس پہنیں اور ایسے ملبوسات سے گریز کریں جنہیں حکام نامناسب قرار دیتے ہیں۔
ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی
واضح رہے کہ رواں برس 6 جون (6 June) سے ہرات میں خواتین کے خلاف لباس اور چہرہ ڈھانپنے سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد کے لیے کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اس دوران درجنوں خواتین کو مبینہ خلاف ورزیوں پر حراست میں لیا گیا۔
مذید خبریں
افغانستان میں شعیہ برادری پر طالبان کی پابندیوں میں اضافہ کیوں،بی بی سی کی رپورٹ – urdureport.com
اب تک کتنے افغان مہا جرین واپس افغانستان جا چکے ،جانئیے اس رپورٹ میں – urdureport.com
ان گرفتاریوں کے خلاف 9 جون (9 June) کو جبریل ٹاؤن (Jebrail Town) میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا، جہاں مظاہرین نے خواتین کے حقوق اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔ مقامی ذرائع کے مطابق احتجاج منتشر کرنے کے لیے طالبان اہلکاروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک، بیس سے زائد زخمی جبکہ متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔
بعد ازاں گورنر ہاؤس کے باہر بھی خواتین اور شہریوں نے ’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ اور ’’تعلیم، کام، آزادی‘‘ کے نعروں کے ساتھ احتجاج کیا، تاہم طالبان نے اس مظاہرے کو بھی منتشر کر دیا اور کئی شرکا کو حراست میں لے لیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر ہونے والی تنقید کے باوجود ہرات میں خواتین کے خلاف کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔


