اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسٹار بلے باز بابر اعظم نے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا۔ وہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 انٹرنیشنل سمیت تینوں فارمیٹس میں 16 ہزار رنز مکمل کرنے والے پانچویں پاکستانی بلے باز بن گئے ہیں۔
بابر اعظم نے اتوار کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے سہ فریقی سیریز کے افتتاحی میچ میں یہ اعزاز حاصل کیا۔ میچ کے آغاز پر انہیں 16 ہزار رنز مکمل کرنے کے لیے صرف سات رنز درکار تھے۔
انہوں نے 57 گیندوں پر 45 رنز بنائے، جن میں چھ چوکے شامل تھے۔ تاہم سری لنکن بولر ایشان مالنگا کی گیند پر پون رتنائیکے کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے اور اپنی اننگز کو بڑے اسکور میں تبدیل نہ کر سکے۔
16 ہزار انٹرنیشنل رنز مکمل کرنے والے پاکستانی بلے باز
بابر اعظم سے قبل پاکستان کی جانب سے انضمام الحق، یونس خان، محمد یوسف اور جاوید میانداد انٹرنیشنل کرکٹ میں 16 ہزار رنز مکمل کر چکے ہیں۔
بابر اعظم نے یہ سنگ میل اپنے انٹرنیشنل کیریئر کی 399ویں اننگز میں عبور کیا۔ محمد یوسف نے 388، جاوید میانداد نے 398، انضمام الحق نے 432 اور یونس خان نے 449 اننگز میں 16 ہزار رنز مکمل کیے تھے۔
اس طرح بابر اعظم نے جاوید میانداد سے ایک اننگز زیادہ کھیل کر یہ اعزاز حاصل کیا، جبکہ محمد یوسف نے ان سے 11 اننگز پہلے یہ سنگ میل عبور کر لیا تھا۔
ون ڈے اور ٹی 20 انٹرنیشنل میں ریکارڈز
بابر اعظم نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کے دوران کئی اہم ریکارڈز قائم کیے ہیں۔ 2018 تک وہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں 2 ہزار رنز مکمل کرنے والے مشترکہ طور پر دوسرے تیز ترین بلے باز بن چکے تھے۔ وہ ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک ہزار رنز مکمل کرنے والے تیز ترین بلے باز بھی رہے۔
2022 میں بابر اعظم ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں دنیا کے تین بہترین بلے بازوں میں شامل تھے۔ اسی سال انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 1,184 رنز بنائے، جن میں چار سنچریاں شامل تھیں۔
بابر اعظم گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی بیٹنگ لائن کا اہم حصہ ہیں اور تینوں فارمیٹس میں متعدد یادگار اننگز کھیل چکے ہیں۔
شارٹ گیندوں کے خلاف مشکلات برقرار
16 ہزار انٹرنیشنل رنز مکمل کرنا بابر اعظم کے کیریئر کا اہم اعزاز ہے، تاہم حالیہ عرصے میں ان کی فارم اور شارٹ گیندوں کو کھیلنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
سری لنکا کے خلاف میچ میں بھی وہ شارٹ گیند پر آؤٹ ہوئے، جس سے ان کی بیٹنگ کی اس کمزوری پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر گیا ہے جب پاکستان کو 2027 کے آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری کرنی ہے۔ یہ عالمی ایونٹ جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا، جہاں کی پچز پر تیز گیند بازوں کو اضافی رفتار اور باؤنس مل سکتا ہے۔
ایسی کنڈیشنز میں شارٹ گیندیں بابر اعظم کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔ مخالف ٹیموں کے بولرز ان کی سابقہ اننگز کی ویڈیوز کا جائزہ لے کر اننگز کے ابتدائی حصے میں شارٹ گیندوں سے انہیں پریشان کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر بابر اعظم کی فارم بہتر نہ ہوئی تو ون ڈے ٹیم میں ان کی جگہ پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
بابر اعظم کے پاس انٹرنیشنل کرکٹ کا وسیع تجربہ ہے، تاہم شارٹ گیندوں کے خلاف اپنی کارکردگی بہتر بنانا ان کے لیے اہم ہوگا۔ پاکستان کو ورلڈ کپ میں ان کے مستقل اور مؤثر کھیل کی ضرورت ہوگی۔
بابر اعظم کے کیریئر پر ایک نظر
لاہور میں پیدا ہونے والے بابر اعظم کا تعلق کرکٹ سے وابستہ اکمل برادران کے خاندان سے ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جونیئر کرکٹ میں مختلف مراحل طے کیے اور کم عمری میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔
بابر اعظم نے 2008 میں انڈر 15 کرکٹ میں حصہ لیا، جبکہ 2010 اور 2012 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں وہ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز رہے۔
انہوں نے زمبابوے کے خلاف پاکستان کی ہوم سیریز میں انٹرنیشنل ڈیبیو کیا اور پہلے ہی میچ میں نصف سنچری اسکور کی۔
2016 میں 21 سال کی عمر میں بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں مسلسل تین سنچریاں بنا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ون ڈے کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کے بعد انہیں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں بھی شامل کر لیا گیا۔ یونس خان اور مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد بابر اعظم نے قومی ٹیم کے نمایاں بلے باز کے طور پر اپنی جگہ مزید مستحکم کی۔


