اردو رپورٹ ڈیسک
لاہور: بینک کی مبینہ تکنیکی غلطی کے باعث شہری کے اکاؤنٹ میں تیس لاکھ روپے منتقل ہونے کے معاملے میں لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
طارق رحمان چوہان بنام سرکار مقدمے کے مطابق ایم سی بی بینک کی جانب سے غلطی سے30 لاکھ روپے Rs 3 million bank transfer روپے شہری اکاؤنٹ میں منتقل ہوگئے تھے۔ ملزم نے رقم میں سے 25 لاکھ روپے نکال کر خرچ کردیئے۔
بعد ازاں بینک کو رقم کی منتقلی money transfer کا علم ہوا تو ملزم سے رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ملزم نے رقم کی واپسی کے لیے بینک کو چیک دیا، تاہم اکاؤنٹ میں ناکافی رقم ہونے کے باعث چیک ڈس آنر dishonoured cheque ہوگیا۔
بینک کی شکایت پر ملزم کے خلاف لاہور میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 406 اور دفعہ 489-F کے تحت کارروائی کی گئی۔
عدالت کا حکم
کیس کی سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے قرار دیا کہ کسی شخص کے اکاؤنٹ میں غلطی سے منتقل ہونے والی رقم بھی حالات کے مطابق قانونی طور پر امانت کے طور پر سپرد شدہ رقم تصور ہوسکتی ہے۔ ایسی رقم کا علم ہونے کے باوجود اسے استعمال یا خرچ کرنا امانت میں خیانت کے جرم کے زمرے میں آسکتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ایسے حالات میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 406 اور دفعہ 489-F کے تحت بیک وقت کارروائی کی جاسکتی ہے۔
ضمانت مسترد
ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت پہلے مجسٹریٹ کی عدالت سے مسترد ہوئی، جس کے بعد سیشن عدالت نے بھی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔
بعد ازاں ملزم نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، تاہم عدالت عالیہ نے بھی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
اس کیس کا ایک اہم اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ آخر تیس لاکھ روپے کی رقم ایک ہی مرتبہ کسی شہری کے اکاؤنٹ میں بینک کی مبینہ تکنیکی غلطی سے کیسے منتقل ہوگئی؟
رقم کیسے منتقل ہوئی ؟
یہ معاملہ محض ایک معمولی غلطی کے بجائے بینک کے اندرونی نظام، ٹرانزیکشن کی تصدیق اور مالی نگرانی کے طریقہ کار سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ رقم کی منتقلی محض تکنیکی غلطی تھی، سنگین غفلت تھی یا اس میں کسی قسم کی ملی بھگت شامل تھی۔ اس بارے میں حتمی صورتحال متعلقہ تحقیقات اور بینک کے ریکارڈ سے ہی واضح ہوسکے گی۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے یہ قانونی اصول بھی سامنے آتا ہے کہ کسی شخص کے اکاؤنٹ میں غلطی سے آنے والی رقم اس کی ملکیت نہیں بن جاتی، اور رقم کے غلط استعمال کی صورت میں اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


