سری لنکا میں ایک حیران کن سائبر فراڈ سامنے آیا ہے جس میں حکومت کی جانب سے آسٹریلیا کو ادا کی جانے والی تقریباً 25 لاکھ ڈالر کی قرض قسط ہیکرز کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئی۔ واقعے کے بعد حکام نے فوری طور پر تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کئی افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔
دارالحکومت Colombo میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سری لنکا کے وزیر خزانہ Harshana Suriyapperuma نے بتایا کہ ادائیگی ایک جاری قرض پروگرام کے تحت کی گئی تھی، تاہم سائبر مجرموں نے مداخلت کر کے رقم کو اصل قرض دہندہ کے بجائے اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر لیا۔
ابتدائی معلومات
حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ ہیکرز نے ای میل کے ذریعے بھیجی جانے والی ادائیگی ہدایات میں ردوبدل کیا، جس کے نتیجے میں سرکاری اہلکار دھوکہ کھا گئے اور رقم غلط اکاؤنٹ میں چلی گئی۔ اس واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب آسٹریلوی حکام نے شکایت کی کہ انہیں متوقع ادائیگی موصول نہیں ہوئی۔
سری لنکن وزارت خزانہ نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پبلک ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے چار سینئر افسران کو معطل کر دیا ہے، جبکہ مزید اعلیٰ حکام کو بھی تحقیقات میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی تحقیقاتی اداروں سے بھی مدد لی جا رہی ہے تاکہ رقم کی بازیابی اور ذمہ داران کی نشاندہی کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھئِے
آن لائن فراڈ سے کیسے بچیں،آدھی دنیا لٹ چکی – urdureport.comاسلام آباد ،فری وائی فائی سٹی بنانے کا ہدف،تیس مقامات پر ہاٹ اسپاٹس کا منصوبہ – urdureport.com
نائب وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ یہی گروہ ایک اور ادائیگی کو بھی ہدف بنانے کی کوشش کر رہا تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی منظم اور بڑے پیمانے پر ہونے والا سائبر حملہ ہو سکتا ہے۔
آسٹریلیا حکومت کا موقف
ادھر آسٹریلیا کے سفارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہیں اور سری لنکا کے ساتھ مل کر تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ سرکاری مالیاتی نظام میں سائبر سیکیورٹی کی سنگین خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے قومی خزانے کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ بروقت کارروائی کے ذریعے ذمہ داروں کے خلاف اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سری لنکا پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہے، اور اس طرح کی سائبر وارداتیں ملک کی معاشی ساکھ کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہیں


