سنیچر کی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کی سالانہ تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس سے تقریب میں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اس موقع پر امریکی صدر Donald Trump، خاتونِ اول Melania Trump اور وزیرِ خارجہ Marco Rubio سمیت کئی اعلیٰ حکام شریک تھے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکرٹ سروس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صدر اور دیگر اہم شخصیات کو بحفاظت مقام سے منتقل کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے کیا بتایا؟
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی تصدیق Federal Bureau of Investigation نے بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریب سے قبل کسی ممکنہ خطرے کی کوئی اطلاع نہیں تھی، جبکہ مشتبہ شخص بظاہر خطرناک معلوم ہو رہا تھا۔
صدر کے مطابق حملہ آور نے تقریباً پچاس گز کے فاصلے سے دوڑتے ہوئے حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔ ابتدائی اندازے کے مطابق حملہ آور اکیلا ہی تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو دارالحکومت کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ایک حراستی مرکز منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد پیر کے روز مشتبہ حملہ آور کو وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا
یہ بھی پڑھئِے
امریکی وفد کا دورہ پاکستان منسوخ : ایران نے مزاکرات کرنے ہیں تو فون کرئے،ٹرمپ – urdureport.com
ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کروں گا،جنگ توسیع ٹرمپ – urdureport.com
میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت 31 سالہ کول تھامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جو کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔
پولیس کا موقف
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسی ہوٹل میں مقیم تھا جہاں تقریب جاری تھی، اور تحقیقات کے لیے اس کا کمرہ سیل کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور چند چاقو برآمد ہوئے ہیں۔ فائرنگ کے دوران تقریب میں شریک افراد نے خود کو بچانے کے لیے میزوں کے نیچے پناہ لی۔ اطلاعات کے مطابق واقعے میں پانچ سے آٹھ گولیاں چلائی گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم زخمی نہیں ہوا اور اس وقت زیرِ حراست ہے جبکہ اس کے ممکنہ محرکات کی تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی طور پر یہ واقعہ ایک اکیلے شخص کی کارروائی معلوم ہوتا ہے، اور حکام کے مطابق فی الحال عوام کو کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں۔
سکیورٹی حکام نے واضح کیا کہ یہ واقعہ سکیورٹی کی ناکامی نہیں بلکہ چیک پوائنٹس نے بروقت کام کرتے ہوئے بڑے نقصان کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا


