امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان سمیت کئی ممالک میں عام شہری کی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے کے باعث ملک بھر میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور سکوٹرز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور شہری اب ایدوانس بکنگ میں الیکڑک بائیکس کی خریداری کر رہے ہیں۔
الیکڑک بائیکس کی فروخت کتنی بڑھی؟
موٹر سائیکل پاکستان میں طویل عرصے سے متوسط طبقے کی بنیادی سواری رہی ہے، اور مالی سال 2025 میں اس کی فروخت 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔ تاہم حالیہ مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے صارفین کے رویے کو بدل دیا ہے۔ اب وہ بڑی تعداد میں پیٹرول سے الیکٹرک بائیکس electric bikes market کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں الیکٹرک بائیکس اور سکوٹرز کی ماہانہ فروخت تقریباً 15 ہزار سے بڑھ کر 29 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی، جو اس شعبے میں غیر معمولی اضافہ ہے۔
الیکٹرک بائیکس بنانے والی کمپنیوں کے مطابق اس تبدیلی کی رفتار حیران کن ہے۔ ایک بڑی کمپنی کے سیلز ڈائریکٹر کے مطابق مارچ 2026 میں فروخت تقریباً دوگنی ہو کر 9800 یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے پہلے ماہانہ اوسط تقریباً پانچ ہزار تھی۔ ان کے مطابق پہلے صرف 30 فیصد خریدار پیٹرول بائیک چھوڑ کر الیکٹرک اختیار کرتے تھے، لیکن اب یہ شرح بڑھ کر 80 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو صارفین کے رجحان میں واضح تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔
الیکڑک بائِکس کی فروخت کی وجوہات
ماہرین کے مطابق اس رجحان کے پیچھے صرف مہنگا پیٹرول ہی نہیں بلکہ گھریلو سطح پر سولر انرجی کا بڑھتا استعمال بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اگر الیکٹرک بائیک کو سولر توانائی solar energy سے چارج کیا جائے تو اس کی لاگت نہایت کم ہو جاتی ہے، جو روایتی ایندھن کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستی ہے۔
حکومت بھی اس تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ حال ہی میں اعلان کیا گیا ہے کہ گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی،public servant electric bikes تاکہ ای وی ٹیکنالوجی کو عام کیا جا سکے اور ملک کے بڑھتے فیول امپورٹ بل کو کم کیا جا سکے۔
الیکڑک بائیکس مارکیٹ کو درپش چیلنجز
اس تیزی سے بڑھتی مانگ کے باوجود کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ زیادہ تر الیکٹرک بائیکس درآمد کی جاتی ہیں، جس کے باعث سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بیٹری ٹیکنالوجی، electric bikes battery chargingچارجنگ انفراسٹرکچر اور مقامی پیداوار کی کمی بھی اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو الیکٹرک بائیک خریدتے وقت اپنی روزمرہ ضرورت، بیٹری کی صلاحیت اور موٹر پاور کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ روزانہ استعمال کے لیے کم از کم 2000 واٹ موٹر اور بہتر بیٹری گنجائش والی بائیک زیادہ موزوں سمجھی جاتی ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں ملک میں الیکٹرک ٹرانسپورٹ نہ صرف عام ہو سکتی ہے بلکہ یہ توانائی کے بحران اور مہنگائی کے مسئلے کے حل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


