اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • گورنر راج اور ایمرجنسی میں کیا فرق ہے؟کے پی کے میں کیا اقدام اٹھایا جائے گا؟
- خاص رپورٹ

گورنر راج اور ایمرجنسی میں کیا فرق ہے؟کے پی کے میں کیا اقدام اٹھایا جائے گا؟

اردو رپورٹ ڈیسک پاکستان میں کسی صوبے کی غیرمعمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئین میں مختلف اختیارات موجود ہیں، جن میں ایمرجنسی اور عام طور پر گورنر راج کہلانے والا آئینی اقدام شامل ہیں۔ تاہم دونوں ایک ہی چیز نہیں ہیں اور ان کے لیے آئینی بنیاد بھی مختلف ہے۔ ایمرجنسی اور گورنر راج […]

اردو رپورٹ ڈیسک

پاکستان میں کسی صوبے کی غیرمعمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئین میں مختلف اختیارات موجود ہیں، جن میں ایمرجنسی اور عام طور پر گورنر راج کہلانے والا آئینی اقدام شامل ہیں۔ تاہم دونوں ایک ہی چیز نہیں ہیں اور ان کے لیے آئینی بنیاد بھی مختلف ہے۔

ایمرجنسی اور گورنر راج میں بنیادی فرق

آئین پاکستان کا آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی سے متعلق ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے کی پوزیشن میں نہ ہو۔ دوسری جانب آرٹیکل 234 اس صورتحال سے متعلق ہے جب کسی صوبے میں آئینی مشینری کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے۔

ایمرجنسی کے تحت کیا ہوتا ہے؟

آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت سنگین ہنگامی صورتحال میں ایمرجنسی نافذ کرسکتے ہیں۔ موجودہ آئینی متن کے مطابق اگر ایمرجنسی کی بنیاد صوبے میں ایسی اندرونی بدامنی ہو جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہو تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہوتی ہے۔

اگر صدر اپنے طور پر ایمرجنسی کا اعلان کریں تو اس اعلان کو دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے، اور آئین کے مطابق ہر ایوان کو دس دن کے اندر اس پر منظوری دینی ہوتی ہے۔

ایمرجنسی کے دوران وفاقی اختیارات

ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد پارلیمنٹ کو صوبے کے ایسے معاملات پر قانون سازی کا اختیار حاصل ہوسکتا ہے جو عام حالات میں صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو ہدایات بھی دے سکتی ہے۔ آئین وفاقی حکومت کو بعض حالات میں صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات اپنے پاس لینے یا گورنر کو وفاق کی جانب سے یہ اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دینے کی اجازت بھی دیتا ہے۔

گورنر راج کیا ہوتا ہے؟

جسے عام سیاسی اور صحافتی زبان میں گورنر راج کہا جاتا ہے، اس کی آئینی بنیاد آرٹیکل 234 ہے، جس کا عنوان صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 234 کے تحت اگر صدر مملکت، گورنر کی رپورٹ موصول ہونے پر، اس بات سے مطمئن ہوں کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی تو صدر اعلان جاری کرسکتے ہیں۔

گورنر راج میں صوبائی اختیارات

آرٹیکل 234 کے تحت صدر صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو اپنے behalf پر یہ اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔

صدر یہ بھی اعلان کرسکتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ کے ذریعے یا اس کی اجازت سے استعمال کیے جائیں گے۔ تاہم آئینی طور پر ہائی کورٹ کے اختیارات صدر یا گورنر کو منتقل نہیں کیے جاسکتے۔

خیبرپختونخوا کے تناظر میں اہم فرق

اگر معاملہ بنیادی طور پر ایسی سنگین اندرونی بدامنی کا ہو جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہو تو آئینی بحث آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے گرد ہوسکتی ہے۔

اگر معاملہ یہ ہو کہ صوبے میں حکومت آئین کے مطابق چل ہی نہیں سکتی تو آرٹیکل 234 کے تحت آئینی مشینری کی ناکامی کا طریقہ کار متعلقہ ہوجاتا ہے، جسے عام طور پر گورنر راج کہا جاتا ہے۔

اس لیے ایمرجنسی کا مطلب خود بخود گورنر راج نہیں ہوتا۔ دونوں اقدامات کے آئینی اسباب، طریقہ کار اور صوبائی اداروں پر اثرات الگ ہیں تاہم وفاقی حکومت کے لیے اس وقت کے پی کے مین دونوں آپشن استعمال کرنے میں کئی مسائل اور روکاٹیں اور بعد کے مسائل حائل ہوں گے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!