اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • آئی ایم ایف کا دباؤ، پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 18 فیصد ہونے کا امکان
- کار پرائس

آئی ایم ایف کا دباؤ، پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 18 فیصد ہونے کا امکان

حکومت الیکٹرک گاڑیوں پر موجود ایک فیصد سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے بعد ٹیکس کی شرح 18 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعتراضات کے بعد الیکٹرک گاڑیوں پر موجود ایک فیصد سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری قرض پروگرام کے تحت مذاکرات جاری ہیں، جبکہ حکومت آئی ایم ایف کے تحفظات کی روشنی میں آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے پر نظرثانی کر رہی ہے۔

آئی ایم ایف کے اعتراضات

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے الیکٹرک گاڑیوں کو حاصل ترجیحی ٹیکس سہولت پر اعتراض کیا ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں کم آمدنی والے افراد کے لیے بنیادی ضرورت نہیں ہیں، اس لیے انہیں سیلز ٹیکس میں بڑی رعایت نہیں دی جانی چاہیے۔

زیر غور تجویز کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس موجودہ ایک فیصد سے بڑھا کر معمول کی شرح 18 فیصد کیا جا سکتا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز پر بھی اسی نوعیت کی شرح بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔

10 ملین روپے کی گاڑی پر ٹیکس کتنا بڑھے گا؟

مثال کے طور پر 10 ملین روپے مالیت کی الیکٹرک گاڑی پر موجودہ ایک فیصد سیلز ٹیکس کے تحت تقریباً ایک لاکھ روپے ٹیکس عائد ہوتا ہے۔

اگر سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد کردی گئی تو اسی گاڑی پر ٹیکس بڑھ کر 18 لاکھ روپے ہوجائے گا، یعنی خریدار پر ٹیکس کا اضافی بوجھ 17 لاکھ روپے تک بڑھ جائے گا۔

آٹو پالیسی 2026-31 پر اثرات

مجوزہ ٹیکس تبدیلی حکومت کی آٹو پالیسی 2026-31 میں تجویز کردہ پالیسی سے ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ حکومت نے نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز دی تھی۔

الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کا معاملہ

آئی ایم ایف اس سے قبل پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کی حمایت کرچکا ہے، جن میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد بڑھانے اور درآمدی پٹرولیم پر انحصار کم کرنے کے لیے مراعات شامل ہیں۔

تاہم آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام میں بگاڑ پیدا کرنے والی ترجیحی سہولیات ختم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

مزید پڑھئِے

فیصلہ تاحال حتمی نہیں

الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز تاحال حتمی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

آٹو پالیسی 2026-31 پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مزید مذاکرات ہوں گے، جس کے بعد حتمی پالیسی اور ٹیکس سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!