اتوار, 27 ستمبر 2026
  • Home  
  • نئی آٹو پالیسی کا حتمی مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر، مقامی گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونے کا امکان
- کار پرائس

نئی آٹو پالیسی کا حتمی مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر، مقامی گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونے کا امکان

اردو رپورٹ ڈیسک حکومت نے اپنی نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کا حتمی مسودہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔ پالیسی پر عمل درآمد سے مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت گاڑی کی […]

اردو رپورٹ ڈیسک

حکومت نے اپنی نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کا حتمی مسودہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔ پالیسی پر عمل درآمد سے مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

مجوزہ پالیسی کے تحت گاڑی کی بکنگ کے بعد قیمت میں ہونے والے کسی بھی اضافے کا بوجھ صارف پر نہیں ہوگا۔ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے بھی مختلف مراعات تجویز کی گئی ہیں۔

پالیسی کے اہداف پورے کرنے والی کمپنیوں کو مراعات دی جائیں گی، جبکہ ناقص کارکردگی پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ نئی پالیسی سے مجموعی طور پر 1764 ارب روپے کے مالی فوائد حاصل ہوں گے۔

آٹو سیکٹر میں کسٹمز ڈیوٹی سے متعلق تجاویز

وزیراعظم کی منظوری کے بعد نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کا حتمی مسودہ آئی ایم ایف کو بھیجا گیا ہے۔

پالیسی میں آٹو سیکٹر کے لیے مختلف مراعات تجویز کی گئی ہیں۔ روایتی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی مرحلہ وار کم کرتے ہوئے 80 فیصد تک کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ تجویز کیا گیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے سامان پر بھی صرف ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ اور صارفین کا تحفظ

مجوزہ پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرض کی حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے اور قرض کی مدت پانچ سال تک رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے 6 اصول بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ ان کے تحت گاڑی کی بکنگ کے بعد قیمت میں ہونے والے اضافے کی ذمہ داری کمپنی پر ہوگی۔

کمپنیوں کے لیے یہ بھی لازم ہوگا کہ وہ صارف کو بکنگ کے وقت ہی گاڑی کی متوقع ڈیلیوری کی تاریخ سے آگاہ کریں۔

آٹو صنعت کے لیے برآمدی اہداف

ٹریکٹر، موٹر سائیکل، رکشہ اور آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کے لیے 15 فیصد برآمدی ہدف تجویز کیا گیا ہے، جبکہ کار بنانے والی کمپنیوں کے لیے یہ ہدف 20 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

مقررہ برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کو اضافی کسٹمز ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔

حکومت کو مالی فوائد کی توقع

حکومت کو توقع ہے کہ نئی پالیسی سے 5 سال کے دوران 288 ارب روپے کا خالص منافع حاصل ہوگا، جبکہ اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 485 ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔

پالیسی کے نتیجے میں ایندھن کی درآمد پر بھی 1226 ارب روپے سے زائد کی بچت متوقع ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!