اتوار, 27 ستمبر 2026
  • Home  
  • نئی آٹو پالیسی سے الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان، فیصلہ کب آئے گا؟
- کار پرائس

نئی آٹو پالیسی سے الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان، فیصلہ کب آئے گا؟

پاکستان کی مجوزہ پانچ سالہ آٹو پالیسی پر حتمی فیصلہ آئی ایم ایف سے مشاورت اور قانونی جائزے کے بعد متوقع ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

پاکستان میں نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی 31-2026 کے مسودے کی منظوری کے بعد الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی اور صارفین کے لیے فنانسنگ کی سہولت بڑھنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پالیسی کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس کا حتمی نفاذ ابھی باقی ہے۔ پالیسی کی منظوری کے لیے وزارتِ خزانہ کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ مسودہ قانونی جائزے کے لیے وزارتِ قانون کو بھیج دیا گیا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس مراعات کی تجویز

مجوزہ پالیسی میں الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑیوں کو نمایاں ٹیکس مراعات دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان گاڑیوں کے پرزہ جات اور خام مال پر سیلز ٹیکس کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپٹل ویلیو ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے آلات کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی بھی ایک فیصد کرنے کی تجویز شامل ہے۔

گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد ایک کروڑ روپے تک بڑھانے کی تجویز

صارفین کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کی غرض سے بینک فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

قرض کی واپسی کی مدت بھی سات سال تک بڑھانے کی تجویز ہے۔ تاہم ان سہولیات کا اطلاق پالیسی کی حتمی منظوری سے مشروط ہوگا۔

پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

مجوزہ پالیسی میں روایتی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی مرحلہ وار کم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

تجویز کے مطابق پالیسی کے پانچویں سال، یعنی 2030ء تک گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی 15 فیصد تک لائی جا سکتی ہے۔

تاہم ابتدائی برسوں میں اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز چارجز کے باعث پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری یا نمایاں کمی کا امکان کم ہے۔

کن گاڑیوں کو سب سے زیادہ فائدہ متوقع ہے؟

ماہرین کے مطابق مجوزہ پالیسی سے سب سے زیادہ فائدہ خالص الیکٹرک گاڑیوں کو ہوگا۔

رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیاں اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں بھی اس پالیسی سے نمایاں طور پر مستفید ہوسکتی ہیں۔

تاہم عام ہائبرڈ گاڑیوں کے سیلز ٹیکس میں کمی کے حوالے سے صورتحال ابھی واضح نہیں۔ پرانی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے صارفین کو کسی بڑے ریلیف کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے بھی مختلف سہولیات دینے کی تجاویز شامل ہیں۔ ان میں چارجنگ اسٹیشنز لگانے والوں کو رعایتی نرخوں پر بجلی کی فراہمی بھی شامل ہوسکتی ہے۔

گزشتہ آٹو پالیسی جون میں ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد نئی پالیسی کی تیاری میں تاخیر ہوئی۔

نئے مسودے میں مقامی اسمبلرز کو ٹیرف کا تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جس سے مقامی صنعت کو کچھ عرصے کے لیے سہارا مل سکتا ہے۔

نئی آٹو پالیسی کب نافذ ہوگی؟

ماہرین کے مطابق مجوزہ پالیسی میں سب سے زیادہ ٹیکس مراعات خالص الیکٹرک گاڑیوں کے لیے رکھی گئی ہیں، اس لیے ان کی قیمتوں میں سب سے نمایاں کمی متوقع ہے۔

تاہم کسی مخصوص گاڑی کے ماڈل کی قیمت میں کمی کا حتمی اندازہ ٹیکس اسٹرکچر، مقامی پیداوار اور کمپنیوں کے فیصلوں کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔

ایک کروڑ روپے کی فنانسنگ حد اور سات سالہ قرض کی مدت بھی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔

حکومت کی جانب سے پالیسی کے مسودے کی منظوری کے باوجود یہ ابھی نافذ نہیں ہوئی۔ وزارتِ قانون کے قانونی جائزے اور آئی ایم ایف سے مشاورت کا عمل مکمل ہونا باقی ہے۔

اکتوبر میں آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد پالیسی کی حتمی منظوری متوقع ہے۔ لہٰذا جب تک حکومت باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتی، گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری کمی یا نئی فنانسنگ سہولیات کو حتمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!