اسلام آباد کے علاقے ترنول میں چار خواتین پر مشتمل ایک گروہ کے جعلی مجسٹریٹ اور سرکاری عملہ بن کر دکانوں اور ہوٹلوں پر چھاپے مارنے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چاروں خواتین کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار خواتین میں سے ایک، راحیلہ، خود کو مجسٹریٹ ظاہر کرتی تھی جبکہ دیگر خواتین اس کے ساتھ سرکاری عملے کا روپ دھار کر مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتی تھیں۔ ملزمان مبینہ طور پر دکانداروں اور ہوٹل مالکان کو دھمکا کر جرمانے کی مد میں رقم بھی وصول کرتی رہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جعلی ٹیم نے اسلام آباد میں ترنول کے علاقے میں کم از کم تین ہوٹلوں کی مبینہ انسپکشن کی اور جرمانے وصول کیے۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے کارروائی کی تو خواتین نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
تھانہ ترنول پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ قانونی کارروائی کے لیے کیس تھانہ ویمن منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزمان کتنے عرصے سے اس جعلسازی میں ملوث تھیں اور آیا انہوں نے دیگر مقامات پر بھی اسی طرز کی کارروائیاں کیں۔


