امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام پر محدود مدت کی پابندی کے معاہدے پر غور کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے، جو اُن کے سابقہ سخت مؤقف کے مقابلے میں نسبتاً نرم تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
چین کے دارالحکومت Beijing میں چینی صدر Xi Jinping سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم 20 برس تک روکنا ضروری ہے۔ اُن کے بقول یہ مدت مؤثر اور قابلِ عمل ہونی چاہیے تاکہ ایران دوبارہ جوہری سرگرمیوں کی طرف نہ جا سکے۔
اس سے قبل ڈونلد ٹرمپ Donald Trump مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ایران یورینیم افزودگی کا عمل مکمل طور پر ختم کرے اور مستقبل میں کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ تاہم حالیہ بیان کو مبصرین ایران کے ساتھ ممکنہ سمجھوتے کی طرف ایک اہم اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو امریکہ مزید انتظار نہیں کرے گا۔ اُنھوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں۔
ایران امریکہ کشیدگی
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود جنگ بندی تاحال بڑی حد تک برقرار ہے۔ رواں برس فروری کے آخر میں امریکہ نے ایران کے مختلف اہداف پر فضائی کارروائیاں کی تھیں، جس کے بعد سفارتی کوششوں کا آغاز ہوا۔ ان مذاکرات میں پاکستان ثالثی کے کردار میں شامل ہے۔
مذید پڑھئِے
ٹرمپ کی چین سے کسی بڑی پیشرف کے بغیر واپسی – urdureport.com
صدر ٹرمپ کی ہلاکت پر 50 ملین یورو کا انعام،ایرانی پارلیمنٹ میں قانون سازی – urdureport.com
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے اپنی تجاویز میں فوری جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مزید حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی حکام نے لبنان میں Hezb*ollah کے خلاف اسرا*ئیلی کارروائیوں کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔
جوہری ہتھیاروں پر رائے
ٹرمپ نے گفتگو میں کہا کہ تمام فریق اس نکتے پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے چاہییں، جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی بھی ضروری ہے کیونکہ اس کی بندش نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپریل میں Islamabad میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر JD Vance نے ایران کی پانچ سالہ معطلی کی تجویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کم از کم 20 سال کی مدت کا مطالبہ کیا تھا۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے تاحال ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم اسرائیل مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر مکمل طور پر ختم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔


