تہران / واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکہ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے اور نئی فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ کویت کی علی السالم ایئر بیس پر تعینات امریکی ایم کیو-9 (MQ-9) ڈرونز کو بھی حملے کا ہدف بنایا گیا، جس سے متعدد ڈرون تباہ یا متاثر ہوئے۔
سینٹکام کا دعویٰ
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔
سینٹکام کے مطابق خطے میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز اور سیکڑوں فوجی طیارے موجود ہیں اور تمام افواج ہائی الرٹ پر ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف نئی کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
ایرانی میڈیا کی خبت
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد بندر عباس، سیریک اور اہواز سمیت جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ہرمزگان کے حکام نے تصدیق کی کہ بندر عباس کے قریب ایک مقام پر امریکی میزائل حملہ ہوا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ادھر ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان موجود مفاہمتی یادداشت عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ تھا۔
بحرین کی صورتحال
اسی دوران بحرین میں فضائی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر سائرن بجائے گئے۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی، جبکہ ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل حملے کیے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی اور کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے پہلے حملہ کیا، اسی لیے امریکہ نے جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کے خلاف اپنے فیصلوں پر کوئی افسوس نہیں۔
فیس واپسی
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو پر مجوزہ 20 فیصد فیس سے متعلق اپنے سابق اعلان پر بھی مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ تجویز واپس لے لی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے خلیجی خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔


