پاکستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی کرنسی خریدنے کا ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے، جہاں عام شہری بھی ممکنہ منافع کی امید میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، حالانکہ ماہرین اس عمل کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔
تاجر ان دنوں ایرانی کرنسی کو اس لیے بھی خرید رہے ہیں کہ اسے ایک “کم رسک، زیادہ فائدہ” والی کوشش سمجھتے ہیں۔
کرنسی مارکیٹ سے وابستہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایرانی ریال ِIrani Rial کی خریداری کا رجحان اس وقت بڑھا جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اس صورتحال نے کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی پیدا کی، جس کے باعث کچھ سرمایہ کاروں نے اسے ایک موقع کے طور پر دیکھا۔
پاکستان ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان Malik Bostan کے مطابق جنگ سے پہلے ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت تقریباً ڈھائی ہزار پاکستانی روپے تھی، جو بعد میں بڑھ کر نو سے دس ہزار روپے تک جا پہنچی۔ تاہم حالیہ دنوں میں دوبارہ کمی کے بعد یہ قیمت تقریباً چھ سے سات ہزار روپے کے درمیان آ چکی ہے۔
لوگ ایرانی کرنسی کیوں خرید رہے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خریداری کے پیچھے بنیادی سوچ یہ ہے کہ اگر مستقبل میں امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے اور پابندیاں نرم ہو جاتی ہیں تو ایرانی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو فائدہ ملے گا۔
تاہم کرنسی ڈیلر خبردار کرتے ہیں کہ ایسی سرمایہ کاری مکمل طور پر قیاس آرائیوں پر مبنی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سیاسی حالات، جنگ، اور پابندیاں کرنسی کی قدر پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں، اور اس میں اچانک بڑے اتار چڑھاؤ آ سکتے ہیں۔
ماہرین کا رائے
دوسری جانب ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈی ویلیوڈ کرنسی میں سرمایہ کاری کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ حکومت اس کرنسی کو ختم کر کے نئی کرنسی جاری کر سکتی ہے یا اس کی قدر کو اچانک تبدیل کر سکتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی رقم تقریباً بے وقعت ہو سکتی ہے۔
اس کے باوجود کچھ حلقے یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایرانی کرنسی کی ایک حد تک طلب برقرار رہ سکتی ہے، کیونکہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت اور زائرین کی آمد و رفت میں اس کا استعمال جاری رہتا ہے۔
مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس طرح کی سرمایہ کاری میں منافع کا امکان موجود ہوتا ہے، لیکن اس میں خطرات کہیں زیادہ ہیں، اور عام افراد کو بغیر مکمل معلومات کے ایسے فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئِے


