اردو رپورٹ ڈیسک
ایرانی گلوکارہ پرستو احمدی کی 74 کوڑوں کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے وکلا کے مطابق ایک اعلیٰ عدالت نے ان کی اپیل بغیر سماعت کے مسترد کردی۔
29 سالہ پرستو احمدی نے دسمبر 2024 میں ایران کے تاریخی دیرگچین کاروانسرا میں ایک کنسرٹ ریکارڈ کیا تھا، جس میں کوئی حاضرین موجود نہیں تھے۔ یہ کنسرٹ بعد میں ان کے یوٹیوب چینل پر جاری کیا گیا۔
The final verdict for Iranian singer Parastoo Ahmadi who held a concert without the mandatory hijab in Iran was issued today.
According to the verdict, she and eight others involved are sentenced to 74 lashes, a two-year ban on audiovisual activities, and a two-year travel ban. pic.twitter.com/0MafGXCY9m
— Ghoncheh Habibiazad | غنچه (@GhonchehAzad) September 25, 2026
حجاب کے بغیر گلوکاری پر کارروائی
پرستو احمدی نے اس کنسرٹ میں حجاب کے بغیر اور بغیر آستینوں والے لباس میں تنہا گلوکاری کی اور مختلف ایرانی گیت پیش کیے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے اور لاکھوں مرتبہ دیکھے جانے کے بعد ایرانی عدلیہ نے ان کے خلاف کارروائی شروع کی۔
حکام کے مطابق یہ پرفارمنس ملک کے قانونی اور ثقافتی ضوابط کی خلاف ورزی تھی۔ ایران میں خواتین کے لیے عوامی موسیقی پروگراموں میں شرکت پر پابندی ہے جبکہ سر ڈھانپنا اور باحیا لباس پہننا بھی قانونی تقاضوں میں شامل ہے۔
74 کوڑوں کے ساتھ دیگر پابندیاں
رپورٹس کے مطابق جون میں قم کی ایک فوجداری عدالت نے پرستو احمدی، ان کے بینڈ اور پروڈکشن ٹیم کے آٹھ دیگر ارکان کو مختلف الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔
ان پر ’غیراخلاقی اور نامناسب مواد‘ شائع کرنے کے ذریعے ’عوامی عفت و اخلاق کو مجروح کرنے‘ سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔
عدالت نے پرستو احمدی کو 74 کوڑوں کی سزا سنانے کے علاوہ انہیں اور دیگر ملزمان کو دو سال کے لیے سمعی و بصری سرگرمیوں میں حصہ لینے اور ملک سے باہر سفر کرنے سے بھی روک دیا تھا۔
وکیل کا عدالت کے فیصلے پر اعتراض
پرستو احمدی کے ایک وکیل نے کہا کہ ان کے خیال میں کنسرٹ کا انعقاد جرم نہیں تھا۔ وکیل کے مطابق ٹرائل کورٹ نے دستیاب سزاؤں میں سے ایک سخت سزا سنائی، حالانکہ جرمانے اور نسبتاً نرم سزاؤں کے متبادل بھی موجود تھے۔
وکیل نے مزید کہا کہ اپیل کورٹ کے پاس مقدمے کی سماعت کا اختیار تھا، تاہم اس نے بغیر سماعت کے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
فنکاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا ردعمل
پرستو احمدی کو سزا سنائے جانے کے بعد ایرانی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ جلاوطنی میں مقیم معروف ایرانی گلوکارہ گوگوش نے خواتین کے زندگی اور لباس کے انتخاب کی آزادی اور ایران میں فن و تخلیقی اظہار کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوڑوں کی سزا ظالمانہ، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کے زمرے میں آتی ہے۔
ایران میں حجاب کے قوانین پر تنازع
ایرانی قانون کے تحت بالغ خواتین اور لڑکیوں کے لیے حجاب اور ایسا ڈھیلا لباس پہننا لازم ہے جس سے جسمانی خدوخال نمایاں نہ ہوں۔
2022 میں 22 سالہ کرد نژاد ایرانی خاتون مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کی حراست میں موت کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اس واقعے نے خواتین کے حقوق اور لازمی حجاب کے قوانین پر عالمی توجہ مرکوز کی۔

