اتوار, 27 ستمبر 2026
  • Home  
  • جماعت اسلامی،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ،ریڈ زون کنٹینر ویلڈ کر کے سیل
- دنیا

جماعت اسلامی،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ،ریڈ زون کنٹینر ویلڈ کر کے سیل

جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی کے خلاف سپر لانگ مارچ آج 20 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ ممکنہ احتجاج کے پیش نظر ریڈ زون میں کنٹینرز لگا کر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

اسلام آباد کے ریڈ زون کو سیل کرنے کا عمل جاری ہے اور وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ احتجاجی مارچ اور دھرنوں کے پیش نظر مختلف داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز لگا کر سیکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔

سرینا چوک سمیت مختلف مقامات پر کنٹینرز رکھ کر راستے بند کیے جا رہے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر کنٹینرز کو ایک دوسرے کے ساتھ لوہے کی سلاخیں اور پتریاں رکھ کر ویلڈ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق کنٹینرز کو ویلڈ کرنے کا مقصد انہیں اپنی جگہ سے ہٹانا مشکل بنانا ہے۔ ریڈ زون کے اطراف کنٹینرز کی دیواریں قائم کرنے کے بعد ان کے پیچھے مزید کنٹینرز بھی رکھے جا رہے ہیں۔

سرینا چوک پر کنٹینرز کو باقاعدہ آپس میں جوڑ کر ویلڈنگ کی جا رہی ہے تاکہ احتجاجی مارچ یا دھرنے کی صورت میں سیکیورٹی رکاوٹوں کو مزید مضبوط رکھا جا سکے۔

جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ آج

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں پٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی جانب ’’سپر لانگ مارچ‘‘ آج 20 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف دینا ہے۔

جماعت اسلامی کے مطابق کراچی سے مرکزی قافلہ ٹرین کے ذریعے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے کارکن بھی مارچ میں شامل ہوں گے۔ کراچی سے ٹرین مارچ کا آغاز صبح 10 بجے کینٹ ریلوے اسٹیشن سے ہونا طے کیا گیا تھا۔

پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کا پس منظر

جماعت اسلامی نے 16 اگست سے پٹرولیم لیوی اور ایندھن کی قیمتوں کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی دھرنے شروع کر رکھے ہیں۔ لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی اور دیگر مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں۔

جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ حکومت کو عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے پٹرولیم لیوی ختم کرنی چاہیے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کا دھرنا بھی کئی ہفتوں تک جاری رہا، جس کے بعد اسے اسلام آباد کی جانب مارچ میں تبدیل کرنے کی تیاری کی گئی۔

حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات بے نتیجہ

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کے متعدد دور ہوئے۔ 19 ستمبر کو منصورہ لاہور میں مذاکرات کا پانچواں دور بھی ہوا، تاہم فریقین کسی حتمی اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکے۔

حکومتی وفد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور پنجاب کے وزیر خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔ حکومت نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر جماعت اسلامی سے مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی، تاہم جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے حوالے سے ٹھوس پیش رفت کے بغیر مارچ واپس نہیں لیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کا مارچ جاری رکھنے کا اعلان

حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس تجویز پیش کرتی ہے تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم محض ریلیف پیکیج یا یقین دہانی کی بنیاد پر مارچ منسوخ نہیں کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کے مطابق اس کی تحریک کسی سیاسی جماعت یا فرد کے خلاف نہیں بلکہ عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لیے ہے۔ جماعت نے مارچ کو پرامن اور جمہوری انداز میں جاری رکھنے اور معمولاتِ زندگی میں غیر ضروری خلل سے گریز کا بھی اعلان کیا ہے۔

پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کو اسلام آباد احتجاج

پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر 2026 کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور ملک گیر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کے اہم مطالبات میں عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مارچ کی قیادت کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، جبکہ پارٹی نے ملک کے مختلف علاقوں سے کارکنوں اور قافلوں کو مرکزی احتجاج میں شامل ہونے کی ہدایات دی ہیں۔

پی ٹی آئی کا مارچ مؤخر کرنے سے متعلق مؤقف

حکومت کی جانب سے 27 ستمبر کا احتجاج مؤخر کرنے کی درخواست کے باوجود پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مقررہ تاریخ برقرار رکھنے کے بیانات سامنے آئے ہیں۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے 19 ستمبر کو کہا کہ 27 ستمبر کے احتجاج کو مؤخر کرنے کا فیصلہ صرف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی احتجاج کے لیے پی ٹی آئی کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ٹی ٹی اے پی کی پی ٹی آئی مارچ کی حمایت

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مارچ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد کے مطابق سیاسی، میڈیا اور عوامی رابطہ مہم کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے احتجاج کو پرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد کے طور پر آگے بڑھانے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی سخت

جماعت اسلامی کے 20 ستمبر اور پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کے حساس علاقوں میں کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنے اور مختلف راستوں کو سیل کرنے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ ریڈ زون کے داخلی راستوں پر بھی کنٹینرز رکھے جا رہے ہیں۔

جڑواں شہروں میں پولیس اور انتظامیہ کو اضافی سیکیورٹی انتظامات کی ہدایات دی گئی ہیں، جبکہ ممکنہ ہنگامی صورتِ حال کے پیش نظر ہسپتالوں کو بھی تیار رکھنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔

20 اور 27 ستمبر کے احتجاج اہم

وفاقی دارالحکومت میں اس وقت 20 ستمبر کو جماعت اسلامی کے مارچ اور 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث سیکیورٹی انتظامات مرکزِ توجہ ہیں۔

جماعت اسلامی کا احتجاج بنیادی طور پر پٹرولیم لیوی اور ایندھن کی قیمتوں کے خلاف ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا احتجاج عمران خان کی رہائی، آئینی بالادستی اور دیگر سیاسی مطالبات کے گرد مرکوز ہے۔

دونوں جماعتوں کے احتجاج کے حوالے سے حکومت کی جانب سے مؤخر کرنے کی درخواستیں سامنے آئی ہیں، تاہم دستیاب بیانات کے مطابق جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی اپنی مقررہ تاریخوں پر احتجاج کے اعلان پر قائم ہیں۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!