اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد پولیس نے تین سالہ بچی سکینہ کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں اس کے بہنوئی کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر بچی کی لاش جھنگی سیداں کے قریب ایک برساتی نالے سے برآمد کی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کو مبینہ طور پر ریپ کے بعد قتل کیا گیا۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
بچی 22 ستمبر کو لاپتہ ہوئی
پولیس حکام کے مطابق تین سالہ سکینہ منگل 22 ستمبر کو دوپہر تقریباً 2 بجے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوئی۔
بچی کی والدہ کے مطابق سکینہ گلی میں کھیل رہی تھی، تاہم کچھ دیر بعد جب انہوں نے اسے دیکھا تو وہ وہاں موجود نہیں تھی۔ اہلخانہ نے اپنی مدد آپ کے تحت بچی کی تلاش شروع کی لیکن کامیابی نہ ملنے پر پولیس سے رابطہ کیا۔
والدہ نے پولیس کو بتایا کہ انہیں خدشہ تھا کہ سکینہ کو کسی نے اغوا کر لیا ہے، جس کے بعد پولیس نے بچی کی تلاش شروع کردی۔
پولیس نے علاقے کے لوگوں سے پوچھ گچھ کے ساتھ بچی کی تلاش کے لیے سات ٹیمیں تشکیل دیں اور آبادی کے اطراف ویران مقامات میں بھی تلاش کی گئی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملزم تک رسائی
پولیس کے مطابق علاقے میں گھروں کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے نہ ہونے کے باعث تفتیش میں مشکلات پیش آئیں۔
تاہم پولیس کو قریبی علاقے میں موجود ایک گھر کے باہر نصب کیمرے کی فوٹیج ملی، جس میں سکینہ ایک نوجوان کا ہاتھ پکڑ کر گلی سے گزرتی دکھائی دی۔
پولیس کے مطابق نوجوان کی عمر تقریباً 23 یا 24 سال تھی اور بعد میں اس کی شناخت کاشف کے نام سے ہوئی، جو بچی کا بہنوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کاشف ابتدائی طور پر سکینہ کی تلاش کے لیے بنائی گئی ٹیموں کے ساتھ بھی موجود رہا اور اس دوران پولیس کو اس پر شبہ نہیں ہوا۔
تفتیش کے دوران ملزم پر شبہ
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد کاشف سے پوچھ گچھ کی گئی۔ تفتیش کے دوران اس نے بچی کی لاش چھپانے کی جگہ کی نشاندہی کی، جہاں سے پولیس نے لاش برآمد کر لی۔
پولیس کے مطابق بچی کی لاش برساتی نالے میں برہنہ حالت میں ملی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس نے بچی کو اس خوف سے قتل کیا کہ وہ گھر جا کر واقعے کے بارے میں اہلخانہ کو بتا دے گی۔
پولیس کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر جائے وقوعہ کے قریب پڑی ایک پرانی شلوار سے نکالے گئے ازاربند کی مدد سے بچی کا گلا گھونٹا۔
فرانزک شواہد اکٹھے کر لیے گئے
پولیس نے بتایا کہ ملزم کی نشاندہی پر وہ پینٹ اور شرٹ بھی برآمد کر لی گئی جو مبینہ طور پر واقعے کے وقت اس نے پہن رکھی تھی۔
پوسٹ مارٹم کے بعد سکینہ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی، جبکہ ملزم اور بچی کے ڈی این اے سمیت دیگر نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق فیصل آباد سے تعلق رکھنے والا ملزم چند ماہ قبل جھنگی سیداں منتقل ہوا تھا اور اس وقت کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ اس کی اہلیہ، جو سکینہ کی بڑی بہن ہے، گھروں میں کام کرکے خاندان کی کفالت کرتی ہے۔
تھانہ نون پولیس کے مطابق بچی کی گمشدگی کے مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
ملزم کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ
پولیس نے ملزم کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق فرانزک تجزیے کے نتائج بھی تفتیش کے دوران جمع کیے گئے شواہد کا حصہ ہوں گے۔

