اتوار, 27 ستمبر 2026
  • Home  
  • پُرامن احتجاج ہمارا حق، پاکستان سب کا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
- پاکستان

پُرامن احتجاج ہمارا حق، پاکستان سب کا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سادہ لباس افراد پر بیوروکریسی، پولیس، کارکنوں اور منتخب نمائندوں کو دھمکانے کا الزام عائد کرتے ہوئے غلط احکامات نہ ماننے کی ہدایت کی ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج کرنا آئینی اور قانونی حق ہے، شنوائی نہ ہونے کی صورت میں صوبائی حکومت پُرامن احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کسی کے باپ کا پاکستان نہیں، ہم سب کا پاکستان ہے۔‘‘

صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ سادہ لباس افراد بیوروکریسی، پولیس، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ڈرا اور دھمکا رہے ہیں۔

کارکنوں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنانے کا الزام

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ تین سے چار دنوں سے سادہ لباس افراد ان کے کارکنوں، تنظیمی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان کے مطابق مواصلات و تعمیرات کے وزیر شکیل خان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور انہیں اغوا کرنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم یہ کوشش ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر بھی سادہ لباس افراد پہنچے، جبکہ ڈی آئی خان اور دیگر اضلاع میں کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جا رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ مردان میں ایم این اے فضل خان کو اغوا کیا گیا، جبکہ فخر جہان کے گھر پر بھی نامعلوم افراد نے دھاوا بولا۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندے اور وزراء نشانے پر ہیں۔

سیاسی بیانات پر تشویش

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر صوبائی کابینہ کے وزراء بھی ایسے افراد سے محفوظ نہیں تو باقی پاکستان کے حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کے ارکان کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند روز قبل رانا ثناء اللہ کی جانب سے خیبر پختونخوا کے لوگوں کو دہشت گرد قرار دینے کے بیانات سامنے آئے، جبکہ مریم صفدر کا یہ کہنا کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، انتہائی تشویشناک بیان ہے۔

خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کا سوال

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے اور صوبے کے تمام راستے بند کرنے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ باقی پاکستان کھلا رہے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ خیبر پختونخوا کو باقی ملک سے کاٹنے اور تمام راستے بند کرنے کا کیا مطلب لیا جائے؟

وزیراعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی سازش ہو رہی ہے اور کیا مشرقی پاکستان جیسے سانحے کو دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی پاکستان کو تقسیم کرنے یا خیبر پختونخوا کو پاکستان سے جدا کرنے کی سازش کرے گا، اسے واضح پیغام ہے کہ ’’ہم پاکستانی تھے، ہم پاکستانی ہیں اور ان شاء اللہ پاکستانی رہیں گے۔‘‘

غلط احکامات نہ ماننے کی ہدایت

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بیوروکریسی، پولیس، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران سے کہا کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت ان سے کوئی غلط کام نہیں کروا رہی تو کسی ادارے یا محکمے کے غلط احکامات نہ مانیں۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر فرد کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ ان کے بقول جب کہیں شنوائی نہ ہو اور لوگوں کو نہ سنا جائے تو آئین پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے اور وہ یہ احتجاج جاری رکھیں گے۔

پُرامن جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک آئین میں پُرامن احتجاج کا حق موجود ہے، وہ پُرامن احتجاج کرتے رہیں گے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کو پیغام دیا کہ گھبرانے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں، اپنے حق اور حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہونا اور پُرامن جدوجہد جاری رکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ بہت جلد ظلم کا دور ختم ہوگا۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!