آزاد جموں و کشمیر کے شہر راولا کوٹ میں انتظامیہ نے دھرنے کے شرکا کو منتشر اور گھروں کو واپس لوٹ گئے جبکہ دوسری جانب جوائنت ایکشن کمیٹی کا موقف ہے کہ یہ نئی حکمت عملی ہے۔
کے ضلع پونچھ کے کمشنر سردار وحید خان نے دعویٰ کیا ہے کہ راولاکوٹ Rawalakot میں موجود کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی Joint Awami Action Committee,کے لانگ مارچ کے شرکا کو سکیورٹی فورسز نے مختلف مقامات سے منتشر کر دیا ہے۔دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ کارکن منتشر نہیں ہوئے بلکہ تنظیمی حکمت عملی کے تحت مختلف مقامات پر منتقل ہوئے ہیں اور احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔
کمشنر کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے راولاکوٹ کے دریک، عیدگاہ اور بس ٹرمینل کے اطراف کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مظاہرین منتشر ہو گئے جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے وقت وہاں ہزاروں افراد موجود تھے۔
لانگ مارچ کب شروع ہوا؟
یہ لانگ مارچ 9 جون کو بھمبر سے شروع ہوا تھا اور میرپور سے ہوتا ہوا راولاکوٹ پہنچا، جہاں سکیورٹی انتظامات کے باعث مظاہرین کو مظفرآباد کی جانب پیش قدمی سے روک دیا گیا۔ کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرینِ مقیم پاکستان کے لیے مختص 12 نشستوں کو ختم کیا جائے۔
حکومت نے حالیہ دنوں میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کی قیادت کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ حکام کا الزام ہے کہ تنظیم ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی اور بغاوت پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث ہے، جبکہ تنظیم ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
راولاکوٹ میں ایک اور کشیدہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب کمیٹی کے مرکزی رہنما عمر نذیر کشمیری کی مبینہ گرفتاری کی کوشش کے دوران جھڑپ ہوئی۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں ایک شخص جان سے گیا جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ عمر نذیر موقع سے نکلنے میں کامیاب رہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔
عمر نذیر کشمیری کون ؟
یاد رہے کہ عمر نذیر کشمیری ان چار رہنماؤں میں شامل ہیں جن کی گرفتاری یا معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے حکومت نے ایک کروڑ روپے انعام مقرر کر رکھا ہے۔
گزشتہ چند روز کے دوران آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں، خصوصاً راولاکوٹ، کوٹلی، باغ اور میرپور میں احتجاج اور جھڑپوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ بتاتی ہے۔
احتجاج کے باعث مختلف شہروں میں کاروباری مراکز، بینک، پٹرول پمپ اور پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی جبکہ سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ مظفرآباد اور راولاکوٹ میں فضائی نگرانی بھی جاری رہی۔
مزاکرات یا دھرنا
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عوامی ایکشن کمیٹی احتجاج اور لانگ مارچ ختم کر دے تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم کمیٹی کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری یا قیادت کی جانب سے باضابطہ ہدایات ملنے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ مہاجرین کے لیے مختص 12 اسمبلی نشستیں آزاد کشمیر کی سیاست میں غیر ضروری مداخلت اور حکومتی عدم استحکام کا باعث بنتی ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ ان نشستوں کا خاتمہ صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ممکن ہے، جس کے لیے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔


