• Home  
  • راولپنڈی، کھاریاں موٹروے 203 ارب کے منصوبے پر سوالات کیوں؟
- پاکستان

راولپنڈی، کھاریاں موٹروے 203 ارب کے منصوبے پر سوالات کیوں؟

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے راولپنڈی اور کھاریاں کے درمیان 117 کلومیٹر طویل ایم-13 موٹروے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ابتدائی منظوری دے دی ہے۔ 203 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل کے بعد اسلام آباد اور لاہور کے درمیان سفر کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹہ کم […]

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے راولپنڈی اور کھاریاں کے درمیان 117 کلومیٹر طویل ایم-13 موٹروے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ابتدائی منظوری دے دی ہے۔ 203 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل کے بعد اسلام آباد اور لاہور کے درمیان سفر کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹہ کم ہونے اور فاصلہ لگ بھگ 100 کلومیٹر تک گھٹنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا، جبکہ اس کی تعمیر 2028 کے آخر تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ اس نئی موٹروے کو چھ رویہ (سکس لین) شاہراہ کے طور پر تعمیر کیا جائے گا، جس سے موجودہ ایم-2 موٹروے اور جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا دباؤ نمایاں حد تک کم ہونے کی توقع ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ایم-13، لاہور-سیالکوٹ (ایم-11) اور سمبڑیال-کھاریاں (ایم-12) موٹرویز کے ساتھ مل کر ایک نیا سفری کوریڈور تشکیل دے گی، جس کے ذریعے مسافروں اور مال بردار ٹریفک کو زیادہ مختصر، محفوظ اور تیز رفتار راستہ میسر آئے گا۔

ناقدین کے اعتراضات

دوسری جانب منصوبے پر اعتراضات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے منصوبے کے لیے مسابقتی بولی (اوپن بڈنگ) کے بجائے براہِ راست مذاکرات کے ذریعے ٹھیکہ دینے کا طریقہ شفافیت سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔

وزارتِ منصوبہ بندی کے ماتحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (P3A) نے 24 جون کو ہونے والے اپنے اجلاس میں راولپنڈی، کھاریاں موٹروے منصوبے کو فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے سپرد کرنے کی اصولی منظوری دی۔

تاہم اس فیصلے پر بعض حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اتنے بڑے منصوبے کے لیے کھلی اور مسابقتی بولی طلب کرنے کے بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ میں موجود خصوصی شق کے تحت براہِ راست مذاکرات (نیگوشی ایٹڈ پروکیورمنٹ) کا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے، جس کی ضرورت اور جواز پر وضاحت ہونی چاہیے۔

این ایچ اے کا موقف

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے مطابق اس مرحلے پر صرف ابتدائی منظوری دی گئی ہے، جبکہ منصوبے کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔ اگر کابینہ اس طریقہ کار سے اتفاق نہ کرے تو منصوبہ اوپن بڈنگ کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ کسی نئی پالیسی کا حصہ نہیں بلکہ پہلے سے جاری بڑے موٹروے نیٹ ورک کی توسیع ہے۔ ان کے مطابق دفاعی اور تکنیکی ضروریات کے باعث اس کی روٹ الائنمنٹ اور ڈیزائن میں تبدیلیاں کی گئی تھیں، اسی لیے اسے موجودہ منصوبے کے تسلسل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

نئی شاہراہِ کی ضرورت

حکام کا مؤقف ہے کہ لاہور، گجرات، کھاریاں اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک میں مسلسل اضافے نے نئی شاہراہ کی ضرورت پیدا کی۔ ان کے مطابق منصوبہ نہ صرف سفری سہولت بہتر بنائے گا بلکہ ایندھن کے اخراجات، مال برداری کی لاگت اور کاربن کے اخراج میں بھی کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

این ایچ اے کا مزید کہنا ہے کہ حکومت صرف پنجاب میں سڑکوں کے منصوبوں پر توجہ نہیں دے رہی بلکہ سکھر-حیدرآباد موٹروے اور بلوچستان میں این-25 شاہراہ سمیت دیگر اہم منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!