آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کے دعوے سامنے آرہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب امریکہ ان بارودی سرنگوں کو ہٹانے کا دعویٰ کر ہا ہے جس میں بظاہر اس کو کامیابی نصیب نہیں ہو رہی اور لگتا ہے کہ ایران اپنی اس حکمت عملی میں کامیاب رہا۔
اس صورتحال نے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی پر بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump نے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کسی ایرانی کشتی کو اس اہم گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھاتے دیکھا جائے تو فوری کارروائی کی جائے اور اس کشتی کی تباہی کر دی جائے۔ امریکہ مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اگر یہ راستہ بند ہوا تو اسے فوجی طاقت کے ذریعے کھولا جا سکتا ہے۔
یہ آبی گزرگاہ دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے.
اسی وجہ سے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، اور ایران کی ممکنہ حکمت عملی کو ایک بڑے سٹریٹجک دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سمندری سرنگیں اتنی خطرناک کیوں؟
سمندری بارودی سرنگیں، جنہیں “سی مائنز” Sea minesکہا جاتا ہے، دراصل پانی میں نصب کیے جانے والے دھماکہ خیز آلات ہوتے ہیں جو جہازوں اور آبدوزوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد دشمن کی بحری نقل و حرکت کو محدود کرنا یا مکمل طور پر روک دینا ہوتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی نئی نہیں بلکہ صدیوں پرانی ہے، جس کا ابتدائی استعمال چین میں کیا گیا تھا اور بعد ازاں دنیا کی بڑی بحری جنگوں میں یہ ایک اہم ہتھیار بن گئی۔

جدید دور میں ان سرنگوں کی کئی اقسام سامنے آ چکی ہیں۔ کچھ سرنگیں براہ راست جہاز سے ٹکرانے پر پھٹتی ہیں، جبکہ جدید “انفلوئنس مائنز” سینسرز کے ذریعے جہاز کی موجودگی کو محسوس کر کے خودکار دھماکہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ سرنگیں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بھی چلائی جا سکتی ہیں، جس سے ان کی تباہ کن صلاحیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
بارودی سرنگیں کیسے بچھائی جاتی ہیں ؟
ان بارودی سرنگوں Sea Mines / Naval Mines کو مختلف طریقوں سے سمندر میں بچھایا جاتا ہے۔ کچھ پانی کی سطح کے قریب تیرتی رہتی ہیں، کچھ لنگر کے ساتھ بندھی ہوتی ہیں، جبکہ کچھ سمندر کی تہہ میں نصب کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹی “لمپٹ مائنز” بھی ہوتی ہیں جنہیں غوطہ خور براہ راست جہازوں کے ساتھ چپکا سکتے ہیں۔
ایران کے حوالے آبنائے ہرمز Strait of Hurmozمیں بارودی سرنگوں sea mines سے متعلق امریکی دعوؤں میں کہا گیا ہے کہ اس نے ہزاروں کی تعداد میں بارودی سرنگیں اس علاقے میں بچھائی ہیں، جنہیں تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے تیزی سے نصب کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس حوالے سے واضح اور مصدقہ معلومات محدود ہیں اور حقیقی صورتحال ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھئیے
فرانس ہرمز کانفرنس کے فیصلے اور میکرون میلونی کی وائرل ویڈیو کے چرچے – urdureport.com
ہرمز کی بندش: دنیا میں غذائی بحران ،یورپ کے پاس چھ ہفتوں کا جیٹ فیول – urdureport.com
سمندری بارودی سرنگوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں بچھانا نسبتاً آسان جبکہ ہٹانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ یہ سرنگیں سمندر کی مختلف گہرائیوں میں ہو سکتی ہیں اور بعض اوقات اپنی جگہ بھی بدل لیتی ہیں، جس سے انہیں تلاش کرنا مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
بارودی سرنگیں کیسے ہتائی جاتی ہیں ؟
بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے خصوصی بحری جہاز استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں “مائن سویپرز”Mine Sweeper کہا جاتا ہے۔ ایک طریقہ “مائن سویپنگ” ہے جس میں تاروں یا آلات کی مدد سے سرنگوں کو اوپر لا کر تباہ کیا جاتا ہے، جبکہ دوسرا طریقہ “مائن ہنٹنگ” ہے جس میں سونار، روبوٹس اور ڈرونز کے ذریعے پہلے سرنگوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور پھر انہیں ناکارہ بنایا جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، اگر واقعی ایران نے اس اہم گزرگاہ میں بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں تو یہ اس کے لیے ایک طاقتور سٹریٹجک ہتھیار بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف دشمن کی بحری سرگرمیاں متاثر ہوں گی بلکہ نفسیاتی دباؤ بھی بڑھے گا، کیونکہ کسی کو درست طور پر معلوم نہیں ہوگا کہ خطرہ کہاں اور کتنی شدت کا ہے۔
مجموعی طور پر، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کا معاملہ محض ایک عسکری مسئلہ نہیں بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی سپلائی اور خطے کے امن سے جڑا ایک نہایت حساس معاملہ بن چکا ہے
یہ بھی پڑھئِے


