اردو رپورٹ ڈیسک
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ ان کے اور پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات کی سماعت میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ کئی رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد، رکن صوبائی اسمبلی غنی خان آفریدی اور دیگر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں۔
یہ مقدمہ 26 نومبر کے احتجاج کے دوران مبینہ توڑ پھوڑ کے حوالے سے تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے وزیر اعلیٰ اور دیگر نامزد ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کے حوالے سے بھی کارروائی شروع کر دی ہے۔
26 نومبر کے ایک اور مقدمے میں بھی کارروائی تیز
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں 26 نومبر سے متعلق ایک دوسرے مقدمے میں گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ اب تک 42 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
اس مقدمے میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما نامزد ہیں۔
سہیل آفریدی کے خلاف کتنے مقدمات ہیں
سہیل آفریدی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات بھی سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔
فرانزک اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کی رپورٹس کی بنیاد پر پشاور پولیس نے ان کے اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف 9 مئی کے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں مقدمہ درج کیا، جو اس وقت پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
ریڈیو پاکستان کے وکیل نے یہ مقدمہ پشاور سے اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔
پشاور کے علاوہ سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد میں 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق 2 مقدمات درج ہیں، جو انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔
ان میں سے ایک مقدمے میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں، جبکہ دوسرے مقدمے میں گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے علاوہ سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد کے سائبر کرائم ونگ میں بھی 2 ایف آئی آرز درج ہیں۔
ان کے اہم ساتھی بھی انہی مقدمات میں نامزد ہیں، جن میں جنید اکبر، مینا خان آفریدی، ڈاکٹر امجد اور دیگر شامل ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما مقدمات سے کیوں پریشان ہیں
پی ٹی آئی اس وقت اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور پارٹی رہنما اپنے خلاف مقدمات کے باعث پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے کہا کہ ابتدا ہی سے پارٹی رہنماؤں پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس طرح کے مقدمات کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مارچ کی تاریخ قریب آنے پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے اور اسلام آباد یا کسی دوسرے صوبے کا سفر اہم رہنماؤں کی گرفتاری کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے اپنے قریبی ساتھیوں کو اسلام آباد جانے سے گریز کرنے اور صوبے میں ہی رہنے کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ یہ اجلاس جمعے کو ہو رہا ہے، جسے اس سے قبل 21 ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کٹھانہ نے کہا کہ جب بھی لانگ مارچ یا احتجاج کی بات ہوتی ہے تو دباؤ ڈالنے کے لیے مختلف حربے آزمائے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقدمات بنانے اور ان کی سماعت تیز کرنے کا سلسلہ علی امین گنڈاپور کے دور سے چلا آ رہا ہے، تاہم اس وقت بھی پی ٹی آئی نہیں ڈری اور اب بھی نہیں ڈرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں بھی پرامن احتجاج کیا اور آئندہ لانگ مارچ بھی پرامن ہوگا۔ ان کے مطابق پارٹی آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج کرے گی، جو اس کا آئینی حق ہے۔
مقدمات پر پی ٹی آئی اور قانونی ماہرین کا مؤقف مختلف
پی ٹی آئی کے مطابق 9 مئی اور 26 نومبر کے مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور پارٹی رہنما ان واقعات میں ملوث نہیں تھے۔
تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتیں شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں اور بعض مقدمات میں مضبوط شواہد موجود ہیں۔
پشاور کے سینئر قانون دان اور ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں ادارے کے وکیل شبیر حسین گیگیانی نے بتایا کہ سہیل آفریدی، تیمور جھگڑا، مینا خان اور دیگر کو ایف آئی آر میں اس وقت نامزد کیا گیا جب سہیل آفریدی خود وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے۔


