اردو رپورٹ ڈیسک
گھر میں کسی شخص کا اچانک بے ہوش ہو کر گر جانا انتہائی پریشان کن صورتحال ہو سکتی ہے۔ ایسے موقع پر گھبراہٹ کے بجائے فوری اور درست اقدامات کرنا ضروری ہے، کیونکہ اگر متاثرہ شخص کا دل کام کرنا بند کر دے یا سانس معمول کے مطابق نہ آ رہی ہو تو ابتدائی چند منٹ اس کی زندگی بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کارڈیک سرجن ڈاکٹر سنتوش گپتا نے ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اچانک بے ہوشی کی صورت میں صرف ایمبولینس کا انتظار کرنا کافی نہیں، بلکہ مریض کے قریب موجود افراد کو فوری طور پر بنیادی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
ان کے مطابق اگر دل خون پمپ کرنا بند کر دے تو دماغ کو آکسیجن کی فراہمی رک جاتی ہے اور چند ہی منٹوں میں دماغ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں مریض کے قریب موجود شخص کی بروقت کارروائی زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کر سکتی ہے۔
پہلا منٹ: مریض کے ہوش اور سانس کی جانچ کریں
اگر کوئی شخص اچانک زمین پر گر جائے تو سب سے پہلے اردگرد کی جگہ محفوظ ہونے کا اطمینان کریں۔ پھر اس کے کندھے کو آہستگی سے تھپتھپائیں اور بلند آواز میں پوچھیں کہ کیا وہ آپ کی بات سن سکتا ہے۔
اگر مریض کوئی جواب نہ دے تو فوری طور پر اس کی سانس کا جائزہ لیں۔ سانس کی جانچ میں 10 سیکنڈ سے زیادہ وقت نہ لگائیں۔
اگر سانس نہیں آ رہی یا صرف وقفے وقفے سے ہانپنے جیسی غیر معمولی سانس آ رہی ہے تو یہ دل کے اچانک کام کرنا بند کرنے، یعنی کارڈیک اریسٹ کی علامت ہو سکتی ہے۔
ایسی صورت میں فوراً ہنگامی طبی مدد طلب کریں اور سینے پر دباؤ ڈالنے کا عمل شروع کریں۔ مریض کو پانی پلانے، زبردستی اٹھانے یا غیر ضروری طور پر حرکت دینے کی کوشش نہ کریں۔
دوسرا منٹ: فوری ایمبولینس بلائیں
اگر گھر میں دوسرے افراد موجود ہوں تو کسی ایک شخص کو فوراً ایمبولینس بلانے کی ذمہ داری دیں۔ فون کا اسپیکر کھلا رکھیں تاکہ ہنگامی طبی عملے کی ہدایات سنتے ہوئے مریض کی مدد جاری رکھی جا سکے۔
دوسرے شخص کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر سی پی آر شروع کرے، جبکہ تیسرا فرد ایمبولینس کے عملے کو راستہ دکھانے کے لیے عمارت کے داخلی دروازے پر موجود رہے۔
اگر آپ اکیلے ہیں تو فوری ہنگامی مدد طلب کریں، فون اسپیکر پر رکھیں اور طبی عملے کی ہدایات کے مطابق سینے پر دباؤ ڈالنا شروع کریں۔
تیسرے سے پانچویں منٹ تک: سی پی آر کیسے کریں؟
اگر مریض بے ہوش ہے اور معمول کے مطابق سانس نہیں لے رہا تو اسے ممکنہ کارڈیک اریسٹ سمجھتے ہوئے فوری سی پی آر شروع کرنا ضروری ہے۔
مریض کو سخت اور ہموار سطح پر سیدھا لٹائیں۔ اپنے دونوں ہاتھ سینے کے درمیان رکھیں اور بازو سیدھے رکھتے ہوئے مسلسل دباؤ ڈالیں۔
بالغ شخص کے سینے کو ایک منٹ میں 100 سے 120 مرتبہ دبانا چاہیے۔ ہر دباؤ کے دوران سینہ تقریباً 5 سے 6 سینٹی میٹر نیچے جانا چاہیے اور ہر بار اسے دوبارہ اپنی اصل حالت میں آنے دینا ضروری ہے۔
اگر آپ سی پی آر کی باقاعدہ تربیت حاصل کر چکے ہیں تو 30 مرتبہ سینہ دبانے کے بعد دو مرتبہ مصنوعی سانس دے سکتے ہیں۔ تاہم اگر مصنوعی سانس دینے کی تربیت نہیں تو صرف سینے پر مسلسل دباؤ ڈالنا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
سی پی آر کے دوران بعض اوقات پسلیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، لیکن اس خدشے کی وجہ سے جان بچانے کی کوشش روکنا درست نہیں۔
طبی عملے کے پہنچنے، مریض کے معمول کے مطابق سانس لینے یا ہنگامی عملے کی ہدایات ملنے تک سی پی آر جاری رکھیں۔ اگر دباؤ ڈالنے والا شخص تھک جائے تو کسی دوسرے فرد کو یہ ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔
اگر خودکار برقی جھٹکا دینے والا آلہ، جسے اے ای ڈی کہا جاتا ہے، دستیاب ہو تو اسے استعمال کریں اور آلے کی آواز میں دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں۔
بے ہوش مریض کو پانی یا دوا دینے سے گریز کریں
ماہرین کے مطابق بے ہوش شخص کو پانی، کھانا یا دوا منہ کے ذریعے ہرگز نہیں دینی چاہیے، کیونکہ یہ چیزیں سانس کی نالی میں داخل ہو کر خطرناک صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
اسی طرح مریض کو زور سے جھنجھوڑنے، چہرے پر پانی چھڑکنے یا زبردستی کھڑا کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔
اگر مریض بے ہوش ہے لیکن معمول کے مطابق سانس لے رہا ہے تو فوری طبی مدد طلب کریں۔ اگر گردن یا ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کا شبہ نہ ہو تو اسے کروٹ پر لٹایا جا سکتا ہے تاکہ قے یا رطوبت کی وجہ سے سانس کی نالی بند ہونے کا خطرہ کم ہو۔
اگر کسی چوٹ کا شبہ ہو تو مریض کو غیر ضروری طور پر حرکت نہ دیں اور ہنگامی طبی عملے کی ہدایات پر عمل کریں۔
سینے میں درد یا سانس کی تکلیف ہو تو کیا کریں؟
ہر ہنگامی صورتحال میں مریض کا بے ہوش ہونا ضروری نہیں۔ بعض اوقات سینے میں درد یا دباؤ، ٹھنڈے پسینے، سانس لینے میں دشواری اور اچانک کمزوری جیسی علامات دل کے دورے کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔
ایسی علامات ظاہر ہونے پر فوری ایمبولینس بلائیں اور مریض کو آرام دہ حالت میں بٹھائیں یا لٹائیں۔ اس کے تنگ کپڑے ڈھیلے کریں اور اسے چلنے پھرنے، سیڑھیاں چڑھنے یا خود گاڑی چلانے سے روکیں۔
مریض کو اکیلا نہ چھوڑیں، کیونکہ بعض صورتوں میں دل کا دورہ اچانک کارڈیک اریسٹ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اپنی طرف سے کوئی نئی دوا دینے کے بجائے طبی عملے کی ہدایات پر عمل کریں۔
دل کا دورہ اور کارڈیک اریسٹ میں کیا فرق ہے؟
دل کا دورہ اور کارڈیک اریسٹ دو مختلف طبی حالتیں ہیں۔
دل کا دورہ اس وقت پڑتا ہے جب دل کے کسی حصے کو خون کی فراہمی متاثر ہو جائے، جبکہ کارڈیک اریسٹ میں دل اچانک مؤثر طریقے سے خون پمپ کرنا بند کر دیتا ہے۔
بعض اوقات دل کا دورہ کارڈیک اریسٹ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے سینے میں درد، سانس کی شدید تکلیف یا اچانک بے ہوشی جیسی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
گھر میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری
ڈاکٹر سنتوش گپتا کے مطابق جن گھروں میں بزرگ افراد یا دل کے مریض موجود ہیں، وہاں ہنگامی طبی امداد کے رابطہ نمبرز نمایاں جگہ پر لکھ کر رکھنے چاہئیں۔
گھر کے افراد کو قریبی ایسے ہسپتال کا پتہ بھی معلوم ہونا چاہیے جہاں دل کے مریضوں کے علاج کی سہولت دستیاب ہو۔
اس کے علاوہ اہل خانہ کو سی پی آر کی بنیادی تربیت حاصل کرنی چاہیے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں وہ گھبراہٹ کے بجائے فوری اور درست اقدامات کر سکیں۔
ڈاکٹر گپتا کا کہنا ہے کہ پانچ منٹ کا وقت بظاہر بہت کم ہے، لیکن اگر گھر والوں کو معلوم ہو کہ اس دوران کیا کرنا ہے تو وہ مریض کے زندہ بچنے کے امکانات بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اہم طبی وضاحت
یہ مضمون صرف عمومی معلومات اور آگاہی کے لیے ہے اور پیشہ ورانہ طبی مشورے یا عملی تربیت کا متبادل نہیں۔ اچانک بے ہوشی، سانس بند ہونے یا دل کے دورے کی علامات ظاہر ہونے پر فوری ہنگامی طبی مدد حاصل کریں۔


