امریکی کمپنی ٹیسلا نے اپنی نئی برقی اسپورٹس کار روڈسٹر متعارف کرا دی ہے، جس میں راکٹ جیسے تھرسٹرز نصب کیے گئے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ گاڑی غیرمعمولی رفتار حاصل کرنے کے علاوہ ہوا میں اچھلنے، پلٹنے اور مخصوص انداز میں حرکت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے اشتراک سے تیار کی گئی دو نشستوں والی اس گاڑی کا مظاہرہ جمعرات کو امریکی ریاست ٹیکساس میں اسپیس ایکس کے آزمائشی مرکز میں کیا گیا۔ ٹیسلا نے اس گاڑی کی پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم اس منصوبے میں گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران متعدد مرتبہ تاخیر ہو چکی ہے۔
https://t.co/KBWjjWknXe
— Elon Musk (@elonmusk) October 16, 2026
راکٹ جیسی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ
تقریب کے دوران سفید رنگ کی روڈسٹر کو ایک ریمپ پر الٹی سمت میں حرکت کرتے، ہوا میں پلٹتے اور نصب شدہ تھرسٹرز کی مدد سے نیچے اترتے دکھایا گیا۔ مظاہرے میں گاڑی کو ایک ٹرک اور دوسری گاڑیوں کے اوپر سے چھلانگ لگاتے ہوئے بھی پیش کیا گیا۔
یہ مظاہرہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے انجینئرز نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا۔ تھرسٹرز ایسے آلات ہیں جو گیس یا ہوا کو تیزی سے خارج کرکے قوت پیدا کرتے ہیں، جس سے کسی چیز کی حرکت یا سمت تبدیل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اسپیس ایکس اپنے راکٹوں میں بھی اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے۔
ایلون مسک نے کہا کہ روڈسٹر کی رفتار اور کارکردگی اسے عام برقی گاڑیوں سے منفرد بنائے گی۔
ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں 97 کلومیٹر رفتار
ٹیسلا کے شعبہ انجینئرنگ کے سربراہ لارز موروی کے مطابق نئی روڈسٹر صفر سے 60 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 97 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کر سکتی ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار 230 میل فی گھنٹہ، یعنی تقریباً 370 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایلون مسک نے اس سے بھی زیادہ رفتار حاصل کرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی کی رفتار آواز کی رفتار کے نصف کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
ٹیسلا کے مطابق روڈسٹر ایک مرتبہ مکمل چارج ہونے پر 300 میل، یعنی تقریباً 480 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
مختلف ماڈلز کی پیشگی ادائیگی
ٹیسلا نے روڈسٹر کے مختلف ماڈلز کے لیے پیشگی رقم جمع کرانے کی شرائط بھی متعارف کرائی ہیں۔ کمپنی کے ریزرویشن صفحے کے مطابق پرفارمنس ماڈل کے لیے 50 ہزار ڈالر جبکہ تھرسٹر ماڈل کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالر پیشگی ادا کرنا ہوں گے۔
تھرسٹر ماڈل میں اضافی تھرسٹرز نصب کیے جائیں گے، جن کا مقصد گاڑی کی رفتار اور حرکت کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
کمپنی نے روڈسٹر راکٹ کے نام سے ایک خصوصی ماڈل بھی پیش کیا ہے، جو صرف دعوت نامے کے ذریعے دستیاب ہوگا۔ ٹیسلا کے مطابق اس ماڈل میں ایک نشست اور مکمل پروازی نظام شامل ہوگا۔
تاہم نئے ماڈلز کی حتمی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تقریباً ایک دہائی قبل جب روڈسٹر کا ابتدائی تصور پیش کیا گیا تھا تو اس کی بنیادی قیمت دو لاکھ ڈالر بتائی گئی تھی۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ نئے ماڈلز خریدنے کے لیے صارفین کو مجموعی طور پر کتنی رقم ادا کرنا ہوگی۔
ٹیسلا کی ٹیکنالوجی حکمت عملی میں تبدیلی
نئی روڈسٹر کی رونمائی ایسے وقت ہوئی ہے جب ٹیسلا کو اپنی گاڑیوں کی فروخت اور مستقبل کی کاروباری حکمت عملی کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے۔ کمپنی اب برقی گاڑیوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت، خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی اور انسان نما روبوٹس پر بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
رواں سال ٹیسلا نے ماڈل ایس اور ماڈل ایکس کی فروخت بند کردی، تاکہ ان گاڑیوں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والی جگہ پر آپٹیمس نامی انسان نما روبوٹس کی پیداوار کو آگے بڑھایا جا سکے۔
کمپنی سائبرکیب نامی دو نشستوں والی خودکار ٹیکسی بھی متعارف کرا چکی ہے، جس میں اسٹیئرنگ وہیل، پیڈلز اور اطراف کے آئینوں جیسے روایتی کنٹرول موجود نہیں ہیں۔
پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا منصوبہ
ٹیسلا کے مطابق روڈسٹر کی پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی 21 اکتوبر کو اپنے رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج بھی جاری کرے گی۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹیسلا کے نسبتاً پرانے برقی گاڑیوں کے ماڈلز کی فروخت میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم ایندھن کی بلند قیمتوں نے حالیہ سہ ماہی میں گاڑیوں کی فراہمی بڑھانے میں مدد دی۔
نئی روڈسٹر کا مظاہرہ برقی گاڑیوں کی رفتار اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے ٹیسلا کی اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم گاڑی کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کمپنی مقررہ وقت پر اسے خریداروں تک پہنچا پاتی ہے یا نہیں، اور رفتار، سفری فاصلے، قیمت اور عملی استعمال سے متعلق اس کے دعوے کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں۔


