اگر سمارٹ فون استعمال کرتے ہوئے آپ کے انگوٹھے، کلائی یا انگلیوں میں درد، اکڑن، سن ہونا یا کمزوری محسوس ہوتی ہے تو یہ محض وقتی تھکن نہیں بلکہ ’ٹیکسٹرز تھمب‘ (Texter’s Thumb) نامی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق مسلسل ٹائپنگ، سکرولنگ اور فون کو ایک ہی انداز میں دیر تک پکڑے رکھنے سے ہاتھوں کے جوڑ، پٹھوں اور ٹینڈنز پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ مستقل درد اور دیگر پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں موبائل فون صرف کالز اور پیغامات تک محدود تھے، لیکن اب لوگ گھنٹوں سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں، آن لائن خریداری کرتے ہیں، بینکنگ اور دفتری کام انجام دیتے ہیں، جس کی وجہ سے انگوٹھے اور کلائی مسلسل حرکت میں رہتے ہیں۔ یونیورسٹی آف کینٹکی ہیلتھ کیئر ہینڈ سینٹر (University of Kentucky HealthCare Hand Center) سے وابستہ ڈاکٹر مورین اوشاگنیسی (Dr. Maureen O’Shaughnessy) کے مطابق موبائل فون ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، اس لیے انہیں استعمال کرنے کا درست طریقہ اپنانا ضروری ہے تاکہ ہاتھوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
ڈاکٹر مورین اوشاگنیسی کے مطابق اگر کوئی شخص کئی گھنٹے ایک ہی پوزیشن میں فون استعمال کرے تو انگوٹھے، کلائی اور کہنی پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جبکہ صرف انگوٹھے سے ٹائپنگ کرنے سے اس کے جوڑ اور پٹھے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے افراد کو اس تکلیف کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ چھٹیوں کے دوران فون کم استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اس عرصے میں ہاتھوں کا درد خود بخود کم ہونے لگتا ہے۔
ایسے میں کیا کریں؟
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اس مسئلے سے بچنے کے لیے ہر کچھ دیر بعد فون کے استعمال سے وقفہ لیا جائے، باری باری دونوں ہاتھوں سے فون استعمال کیا جائے، صرف انگوٹھے کے بجائے دوسری انگلیوں سے بھی ٹائپ کیا جائے اور لمبی تحریر لکھنے کے لیے وائس ٹو ٹیکسٹ (Voice-to-Text) فیچر استعمال کیا جائے۔ اسی طرح فون کا فونٹ بڑا رکھنے، گرپ ہولڈر یا فون اسٹینڈ استعمال کرنے اور روزانہ کلائی اور انگلیوں کی ہلکی ورزش کرنے سے بھی ہاتھوں پر پڑنے والا دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔
مذید خبریں
چینی ریاضی دانوں نے صدی پرانا سوال حل کر دیا : ریاضی کا نوبیل انعام جیت گئے – urdureport.com
ہارورڈ کے سائنس دانوں نے دور دراز زمین جیسے سیارے پر فضا دریافت کر لی – urdureport.com
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ہاتھ یا انگوٹھے کا درد کئی ہفتوں تک برقرار رہے، چیزیں پکڑنے میں دشواری ہو یا انگلیاں بار بار سن ہونے لگیں تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے فوری طور پر ہینڈ اسپیشلسٹ یا آرتھوپیڈک ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج مستقبل میں مستقل نقصان سے بچا سکتا ہے۔


