امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایک اہم اعلان کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر رہے ہیں اور مزید ہدایات جاری کیں کہ وہاں پھنسے ہوئئے جہازوں اور ان کا عملہ گھر واپسی کی تیاری کریں۔
جمعے کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے ساتھ ’تاحکمِ ثانی پیسوں کا کوئی تبادلہ نہیں ہوگا۔تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ واضح کیا کہ دیگر کم اہمیت کے حامل نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔
’صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ میں ایک اجلاس کہ لیے سچوئیشن روم میں جا رہا ہوں اور حتمی فیصلہ کروں گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جانا چاہیے تاکہ بحری آمد و رفت بلا تعطل جاری رہ سکے اور کسی قسم کا ٹول یا فیس عائد نہ کی جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بیشتر بارودی سرنگیں امریکی مائن سوئپرز پہلے ہی ناکارہ بنا چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ سرنگیں ایران جلد ہٹا دے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ، بین الاقوامی توانائی ایجنسی اور ایران کے باہمی تعاون سے زیرِ زمین مقامات پر موجود افزودہ یورینیم کو نکال کر مکمل طور پر تلف کیا جائے گا۔


